new one

Fusus al-Hikam [April 2015 | Published]

We are excited to announce the release of a new critical edition and Urdu translation of "Fusus al-Hikam" by the renowned Shaykh al-Akbar Ibn al-Arabi. This book marks a significant milestone in the study of Islamic philosophy, as it includes text extracted from the most authentic manuscript written by Sadr ud din Qunawi. The manuscript bears over 3 samas and is signed by Shaykh al-Akbar himself, making it a highly reliable source of the original text.
This edition has been meticulously checked against the commonly printed versions of the book to ensure that each word chosen reflects the true intentions of its author. The text is fully punctuated and paragraphed, and every variant of other manuscripts is provided in the notes to give the reader a comprehensive view of the differences.
The Urdu translation has been carefully crafted using day-to-day Muhawara and Zarb al-Mithal to make it accessible to a wider audience. The bilingual format of the book, with each translated word placed in the facing page of the original Arabic, adds to its beauty. Additionally, more than 690 Urdu notes from other works of Shaykh al-Akbar have been included to clarify concepts and help readers easily understand the ideas presented in the text.
We are confident that this edition of "Fusus al-Hikam" is the best available and highly recommend it to all admirers of Ibn al-Arabi. This book will undoubtedly contribute to a deeper understanding and appreciation of the profound insights and teachings of one of the most celebrated Islamic philosophers. Visit our website to purchase your copy and experience the transformative power of this exceptional work.
View collection
ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی رحمة اللہ علیہ کی نئی کتاب "فصوص الحکم" شائع ہو گئی ہے ۔ کتاب کے عربی متن کے بارے میں ہم صرف انتا کہنا چاہیں گے کہ ہمارا شائع کیا جانے والا یہ متن اس کتاب کے نسخہ صدر الدین قونوی کو بنیاد بنا کر اخذ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے مزید 6 قدیمی نسخوں سے اس کا موازنہ بھی کیا ہے۔
کتاب کی تحقیق جناب ابرار احمد شاہی اور عبد العزیز سلطان المنصوب نے کی ہے۔ کتاب کے عربی متن کے ساتھ سلیس اردو ترجمہ بھی شائع کیا جا رہا ہے جس کی ایک امتیازی خوبی یہ ہے کہ یہ ترجمہ عربیت زدہ نہیں بلکہ عام فہم اردو معاییر کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت ہی سلیس رکھا گیا ہے۔ ترجمے میں جا بجا اردو محاورات اور روزمرہ کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ قارئین تک بات نہایت سہل اسلوب میں پہنچائی جا سکے۔ عربی متن اور اردو ترجمے کو آمنے سامنے شائع کیا جا رہا ہے تا کہ اگر ترجمے میں ابہام ہو تو اصل متن سے یہ کمی پوری کی جا سکے۔ اردو ترجمے میں 600 سے زائد حواشی لکھے گئے ہیں جو بعض مقامات پر شیخ کی مراد سمجھانے کا کام کرتے ہیں.
 آخر میں ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ اس سب تحقیق اور تدقیق کے بعد یہ اس کتاب کا سب سے تحقیق شدہ نسخہ ہے بلکہ شیخ اکبر کے ہر چاہنے والے کے پاس اس کتاب کا یہ نسخہ ہونا چاہیے۔ چونکہ یہ کتاب شرح کے بغیر سمجھنا آسان نہیں تو ہم نے ان 600 سے زائد حواشی میں اس کتاب کی بہترین شروحات سے اقتباسات نقل کیے ہیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل شروحات سے استفادہ کیا گیا ہے: شرح قیصری شرح جامی شرح بالی آفندی شرح مہائمی شرح عبد الغنی النابلسی

Leave a Reply