Kitab al-Isra [Book reading]

 

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 17 تا 22 (فاضل سے مستیقظ تک)، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1. فاضل (صاحبِ فضل): وَمِنْ فَاضِلٍ وَالفَضْلُ حَقُّ وُجُودِهِ ... وَلَكِنّ مَا يَرْجُوهُ فِي رَاحَةِ النَّدَى
2. سید (ادیبِ زمانہ): وَمِنْ سَيِّدٍ أَمْسَى أَدِيبَ زَمَانِهِ ... يُقَابِل مَنْ يَلْقَاهُ مِنْ حَيْثُ مَا جَرَى
3. ماہر (ریاضت والا): وَمِنْ مَاهِرٍ حَازَ الرِّيَاضَةَ وَاعْتَلَا ... فَصَارَ يُنَادِي بِالأَسِنَّةِ وَاللُّهَابِ
4. متحل (صفات سے آراستہ): وَمِنْ مُتَحَلٍ بِالصَّفَاتِ التِيْ حَدَا ... أَجْسَادِهَا حَادِي المَنِيَّةِ للبَلَا
5. متخل (خالی ہونے والا): وَمِنْ مُتَخَلٍ طَالِبِ الأُنْسِ بِالَّذِي ... تَأَزَّرَ بِالِجسْمِ التُّرَابِي وَارْتَدَى
6. مستیقظ (بیدار ہونے والا): وَمُسْتَيْقَظٍ بِالانْزِعَاجٍ لِعِلَّةٍ ... أَصَابَتْهُ مَطْـُروحًا عَلَى فُرُشٍ الْعَمَى--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور معرفت سے لبریز نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان چھ اشعار کی گہرائی میں اتریں گے جو اولیا اللہ کے مختلف طبقات اور ان کے احوال بیان کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم سب سے پہلے اس "فاضل" کا ذکر کریں گے جو عدل کے مقام سے گزر کر "راحتِ ندیٰ" یعنی اللہ کے خالص جود و کرم کی پناہ مانگتا ہے۔ اس کے بعد ہم "سید" اور "ادیبِ زمانہ" کی معرفت حاصل کریں گے، یہ وہ کامل انسان ہے جو ہر تجلی اور ہر ملنے والے کا استقبال وہیں سے کرتا ہے جہاں سے وہ جاری ہوا ہے، اور وقت کے حکم کے مطابق چلتا ہے۔ ہم شیخ کے اس کلام کی روشنی میں "ماہر" کی ریاضت اور اس کے جلال کا بھی تذکرہ کریں گے جو باطل کے خلاف نیزوں اور شعلوں کی طرح پکارتا ہے۔
ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم سلوک کی دو اہم ترین اصطلاحات "تحلی" (صفات سے آراستہ ہونا) اور "تخلی" (غیر سے خالی ہونا) پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح "متحل" ولی اپنی صفاتِ الہیہ کے باوجود اپنے جسمانی انجام سے غافل نہیں ہوتا، اور کس طرح "متخل" ولی اس ذات سے انس چاہتا ہے جس نے خاکی جسم کا لباس اوڑھ رکھا ہے۔ آخر میں ہم اس "مستیقظ" (بیدار ہونے والے) کی حالت بیان کریں گے جسے غفلت کے بستر پر "انزعاج" (بے چینی) اور "علت" نے آ لیا اور وہ حقیقت کی طرف بیدار ہو گیا۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور شیخ کی دیگر کتب کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک اصل حقائق پہنچ سکیں۔
English Description:
In this video, we delve deep into the profound verses 17-22 from the chapter "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We explore the distinct spiritual stations of the Saints (Awliya) as described by the Great Sheikh. We begin with the "Fadil" (The Virtuous), who transcends the station of mere justice to seek the "Ease of Generosity" (Rahat al-Nada) from the Divine Presence. We then uncover the reality of the "Sayyid" (The Master) who is the "Adib" (The Courteous One) of his time—the Perfect Man who accepts every Divine manifestation and destiny exactly from its source of flow, adhering to the wisdom of the moment.
Furthermore, we analyze the station of the "Mahir" (The Skilled One) who, having mastered spiritual discipline (Riyadah), calls out with the power of spears and flames. The video provides a critical explanation of the twin concepts of "Tahalli" (Adornment with Divine Attributes) and "Takhalli" (Emptying of the Self). We discuss the "Mutahall," who balances divine attributes with physical mortality, and the "Mutakhall," who seeks intimacy with the Divine Reality cloaked in the human form. Finally, we examine the "Mustayqiz" (The Awakened One), whom Divine agitation (Inzi'aj) and spiritual cause ('Illa) have roused from the bed of heedlessness. This exposition is based on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ادیب_زمانہ #ریاضت #تخلی_و_تحلی #انزعاج #بیدار_مغز #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #اسلامی_روحانیت #معرفت_نفس #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #RafarifAlUla #Sufism #IslamicMysticism #SpiritualDiscipline #Riyadah #Adib #TahalliAndTakhalli #SufiPoetry #AbrarAhmedShahi #DivineAttributes #SpiritualAwakening #IbnSawdakin #EsotericIslam
Keywords (Urdu & English):

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 17 تا 22 (فاضل سے مستیقظ تک)، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1. فاضل (صاحبِ فضل): وَمِنْ فَاضِلٍ وَالفَضْلُ حَقُّ وُجُودِهِ … وَلَكِنّ مَا يَرْجُوهُ فِي رَاحَةِ النَّدَى
2. سید (ادیبِ زمانہ): وَمِنْ سَيِّدٍ أَمْسَى أَدِيبَ زَمَانِهِ … يُقَابِل مَنْ يَلْقَاهُ مِنْ حَيْثُ مَا جَرَى
3. ماہر (ریاضت والا): وَمِنْ مَاهِرٍ حَازَ الرِّيَاضَةَ وَاعْتَلَا … فَصَارَ يُنَادِي بِالأَسِنَّةِ وَاللُّهَابِ
4. متحل (صفات سے آراستہ): وَمِنْ مُتَحَلٍ بِالصَّفَاتِ التِيْ حَدَا … أَجْسَادِهَا حَادِي المَنِيَّةِ للبَلَا
5. متخل (خالی ہونے والا): وَمِنْ مُتَخَلٍ طَالِبِ الأُنْسِ بِالَّذِي … تَأَزَّرَ بِالِجسْمِ التُّرَابِي وَارْتَدَى
6. مستیقظ (بیدار ہونے والا): وَمُسْتَيْقَظٍ بِالانْزِعَاجٍ لِعِلَّةٍ … أَصَابَتْهُ مَطْـُروحًا عَلَى فُرُشٍ الْعَمَى

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور معرفت سے لبریز نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان چھ اشعار کی گہرائی میں اتریں گے جو اولیا اللہ کے مختلف طبقات اور ان کے احوال بیان کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم سب سے پہلے اس "فاضل" کا ذکر کریں گے جو عدل کے مقام سے گزر کر "راحتِ ندیٰ" یعنی اللہ کے خالص جود و کرم کی پناہ مانگتا ہے۔ اس کے بعد ہم "سید" اور "ادیبِ زمانہ" کی معرفت حاصل کریں گے، یہ وہ کامل انسان ہے جو ہر تجلی اور ہر ملنے والے کا استقبال وہیں سے کرتا ہے جہاں سے وہ جاری ہوا ہے، اور وقت کے حکم کے مطابق چلتا ہے۔ ہم شیخ کے اس کلام کی روشنی میں "ماہر" کی ریاضت اور اس کے جلال کا بھی تذکرہ کریں گے جو باطل کے خلاف نیزوں اور شعلوں کی طرح پکارتا ہے۔
ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم سلوک کی دو اہم ترین اصطلاحات "تحلی" (صفات سے آراستہ ہونا) اور "تخلی" (غیر سے خالی ہونا) پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح "متحل" ولی اپنی صفاتِ الہیہ کے باوجود اپنے جسمانی انجام سے غافل نہیں ہوتا، اور کس طرح "متخل" ولی اس ذات سے انس چاہتا ہے جس نے خاکی جسم کا لباس اوڑھ رکھا ہے۔ آخر میں ہم اس "مستیقظ" (بیدار ہونے والے) کی حالت بیان کریں گے جسے غفلت کے بستر پر "انزعاج" (بے چینی) اور "علت" نے آ لیا اور وہ حقیقت کی طرف بیدار ہو گیا۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور شیخ کی دیگر کتب کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک اصل حقائق پہنچ سکیں۔
English Description:
In this video, we delve deep into the profound verses 17-22 from the chapter "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We explore the distinct spiritual stations of the Saints (Awliya) as described by the Great Sheikh. We begin with the "Fadil" (The Virtuous), who transcends the station of mere justice to seek the "Ease of Generosity" (Rahat al-Nada) from the Divine Presence. We then uncover the reality of the "Sayyid" (The Master) who is the "Adib" (The Courteous One) of his time—the Perfect Man who accepts every Divine manifestation and destiny exactly from its source of flow, adhering to the wisdom of the moment.
Furthermore, we analyze the station of the "Mahir" (The Skilled One) who, having mastered spiritual discipline (Riyadah), calls out with the power of spears and flames. The video provides a critical explanation of the twin concepts of "Tahalli" (Adornment with Divine Attributes) and "Takhalli" (Emptying of the Self). We discuss the "Mutahall," who balances divine attributes with physical mortality, and the "Mutakhall," who seeks intimacy with the Divine Reality cloaked in the human form. Finally, we examine the "Mustayqiz" (The Awakened One), whom Divine agitation (Inzi'aj) and spiritual cause ('Illa) have roused from the bed of heedlessness. This exposition is based on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ادیب_زمانہ #ریاضت #تخلی_و_تحلی #انزعاج #بیدار_مغز #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #اسلامی_روحانیت #معرفت_نفس #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #RafarifAlUla #Sufism #IslamicMysticism #SpiritualDiscipline #Riyadah #Adib #TahalliAndTakhalli #SufiPoetry #AbrarAhmedShahi #DivineAttributes #SpiritualAwakening #IbnSawdakin #EsotericIslam
Keywords (Urdu & English):

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS43NERCMDIzQzFBMERCMEE3

Ep- 37 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے اشعار نمبر 17 تا 22 | Ibn al-Arabi Baithak | 10 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 13, 2026 1:18 pm

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 10 سے 16، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
10. واقف (مخلوق کے لیے کھڑا): وَمِنْ وَاقِفٍ لِلْخَلْقِ عِنْدَ مَقَامِهِ ... وَرُتْبَتُهُ فِي الغَيْبِ مَرْتَبَةُ الأَسَى
11. ظاہر (نمایاں/صاحبِ قدرت): وَمِنْ ظَاهِرٍ وَسْطَ المكان مُبَرَّزٍ ... لَهُ مُـْكنَةٌ تَسْمُو عَلَى كُلِّ مُسْـتَمَى
12. شاطح (دعوے دار): وِمِنْ شَاطِحٍ لَــمْ يَلْتَفِتْ لِـَحقِيْقَةٍ ... قَدْ أنْزَلَهُ دَعْوَاهُ مَنْزِلَةُ الهَبَا
13. نیرات (دلوں میں طلوع ہونے والی): وَمِنْ نَيِّرَاتٍ فِي القُلُوبِ طَوَالِعٍ ... تَدُلُّ عَلَى المَعْنَى، وَمَنْ يَتَّصِلْ يَرَى
14. عاشق: وَمِنْ عَاشِقٍ سِرَّ الذِّهَابِ مُتَيِّــم ... قَدْ أَنْحَلَهُ الشَّوقُ الُمبَرَّحُ وَالَجَوى
15. صاحبِ انفاس: وَصَاحِبُ أَنْفَاسٍ تَرَاهُ مُسَلَّطاً ... عَلَى نَارِ أَشْوَاقٍ بِهَا قَلبُهُ اكْتَوَى
16. کاتمِ سِر (راز چھپانے والا): وَمِنْ كَاتمٍ لِلسِّر يُظْهِــرُ ضِدَّهُ ... عَلَيْهِ لِطُلَّابِ الَمشَــاهِدِ بِالتَّقَى--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور علمی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے آخری حصے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان سات اشعار (شعر نمبر دس تا سولہ) کا احاطہ کریں گے جن میں شیخ نے عالم بالا کے مشاہدات اور اولیا اللہ کے مختلف طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ "واقف" سے کون مراد ہے جو اگرچہ غیب میں بلند ترین مرتبے پر فائز ہے مگر اس نے خود کو مخلوق کی رہنمائی کے لیے روک رکھا ہے۔ پھر ہم اس "ظاہر" کا ذکر کریں گے جو مکان کے وسط میں ہے اور اسے ایسی قدرت حاصل ہے جو تمام نامزد مقامات سے بلند ہے۔ شیخ نے یہاں "شاطح" کے خطرناک مقام کی بھی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح ایک ولی وجد میں آ کر دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ دعویٰ اسے حقیقت سے دور کر کے "ہبا" یعنی بے وزن ذرات کی طرح گرا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ ہم "نیرات" یعنی ان قلبی انوار کا ذکر کریں گے جو سالک کو ذاتِ حق کے معنی تک پہنچاتے ہیں۔ ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم "عاشق" کے اس خاص گروہ پر بات کریں گے جو "سرِ ذہاب" یعنی کوچ کر جانے کے راز کا امین ہے اور عشق کی آگ نے اسے پگھلا دیا ہے۔ پھر ہم "صاحبِ انفاس" کی معرفت حاصل کریں گے جو شوق کی آگ پر مسلط ہوتا ہے اور آخر میں ہم اولیا کے اس بلند ترین طبقے یعنی "ملامتیہ" کا ذکر کریں گے جو "کاتمِ سر" ہیں، جو اپنے راز کو چھپاتے ہیں اور ظاہر میں اپنی ولایت کی ضد پیش کرتے ہیں تاکہ کچے مریدین اور طلبگاروں کے ایمان کی حفاظت ہو سکے۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور قدیم قلمی نسخوں کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک شیخ کا اصل پیغام پہنچ سکے۔
English Description:
In this video, we continue our profound journey through the "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) chapter of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We will explore verses 10 through 16, which categorize distinct spiritual stations and types of friends of God (Awliya). We begin with the "Waqif" (The Standing One), a high-ranking spiritual figure who, despite his immense status in the Unseen, dedicates himself to the guidance of creation. We then discuss the "Zahir" (The Manifest One) positioned at the center of spiritual authority, possessing power that transcends all designated ranks. A critical analysis is provided regarding the "Shatih" (The Ecstatic Utterance Maker), warning how unchecked spiritual claims can reduce a seeker’s station to mere scattered dust (Haba), devoid of weight in the Divine presence.
Furthermore, we delve into the concept of "Nayyirat" (Radiant Lights) rising in the hearts, guiding the seeker to the Ultimate Meaning. We unpack the mystery of the "Ashiq" (Lover) who possesses the "Secret of Departure" (Sirr al-Dhahab), physically present but spiritually annihilated in the Divine. The video also covers the "Sahib al-Anfas" (Master of Breaths), who controls the intense fire of longing rather than being consumed by it. Finally, we conclude with the "Katim al-Sir" (Concealer of Secrets), referencing the Malamatiyya path—those who hide their saintly reality behind a veil of ordinariness to protect aspiring seekers from the overwhelming intensity of Divine Truth. This exposition relies on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ملامتیہ #سالک_و_مجذوب #شطحات #عاشق_الہی #معرفت #روحانیت #اسلامی_تصوف #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #فنا_و_بقا #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #KitabAlIsra #RafarifAlUla #SufiPoetry #IslamicMysticism #Malamatiyya #DivineLove #SufiPath #SpiritualStation #EsotericIslam #AbrarAhmedShahi #Shatih #FanaAndBaqa #SufiWisdom

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 10 سے 16، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
10. واقف (مخلوق کے لیے کھڑا): وَمِنْ وَاقِفٍ لِلْخَلْقِ عِنْدَ مَقَامِهِ … وَرُتْبَتُهُ فِي الغَيْبِ مَرْتَبَةُ الأَسَى
11. ظاہر (نمایاں/صاحبِ قدرت): وَمِنْ ظَاهِرٍ وَسْطَ المكان مُبَرَّزٍ … لَهُ مُـْكنَةٌ تَسْمُو عَلَى كُلِّ مُسْـتَمَى
12. شاطح (دعوے دار): وِمِنْ شَاطِحٍ لَــمْ يَلْتَفِتْ لِـَحقِيْقَةٍ … قَدْ أنْزَلَهُ دَعْوَاهُ مَنْزِلَةُ الهَبَا
13. نیرات (دلوں میں طلوع ہونے والی): وَمِنْ نَيِّرَاتٍ فِي القُلُوبِ طَوَالِعٍ … تَدُلُّ عَلَى المَعْنَى، وَمَنْ يَتَّصِلْ يَرَى
14. عاشق: وَمِنْ عَاشِقٍ سِرَّ الذِّهَابِ مُتَيِّــم … قَدْ أَنْحَلَهُ الشَّوقُ الُمبَرَّحُ وَالَجَوى
15. صاحبِ انفاس: وَصَاحِبُ أَنْفَاسٍ تَرَاهُ مُسَلَّطاً … عَلَى نَارِ أَشْوَاقٍ بِهَا قَلبُهُ اكْتَوَى
16. کاتمِ سِر (راز چھپانے والا): وَمِنْ كَاتمٍ لِلسِّر يُظْهِــرُ ضِدَّهُ … عَلَيْهِ لِطُلَّابِ الَمشَــاهِدِ بِالتَّقَى

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور علمی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے آخری حصے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان سات اشعار (شعر نمبر دس تا سولہ) کا احاطہ کریں گے جن میں شیخ نے عالم بالا کے مشاہدات اور اولیا اللہ کے مختلف طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ "واقف" سے کون مراد ہے جو اگرچہ غیب میں بلند ترین مرتبے پر فائز ہے مگر اس نے خود کو مخلوق کی رہنمائی کے لیے روک رکھا ہے۔ پھر ہم اس "ظاہر" کا ذکر کریں گے جو مکان کے وسط میں ہے اور اسے ایسی قدرت حاصل ہے جو تمام نامزد مقامات سے بلند ہے۔ شیخ نے یہاں "شاطح" کے خطرناک مقام کی بھی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح ایک ولی وجد میں آ کر دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ دعویٰ اسے حقیقت سے دور کر کے "ہبا" یعنی بے وزن ذرات کی طرح گرا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ ہم "نیرات" یعنی ان قلبی انوار کا ذکر کریں گے جو سالک کو ذاتِ حق کے معنی تک پہنچاتے ہیں۔ ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم "عاشق" کے اس خاص گروہ پر بات کریں گے جو "سرِ ذہاب" یعنی کوچ کر جانے کے راز کا امین ہے اور عشق کی آگ نے اسے پگھلا دیا ہے۔ پھر ہم "صاحبِ انفاس" کی معرفت حاصل کریں گے جو شوق کی آگ پر مسلط ہوتا ہے اور آخر میں ہم اولیا کے اس بلند ترین طبقے یعنی "ملامتیہ" کا ذکر کریں گے جو "کاتمِ سر" ہیں، جو اپنے راز کو چھپاتے ہیں اور ظاہر میں اپنی ولایت کی ضد پیش کرتے ہیں تاکہ کچے مریدین اور طلبگاروں کے ایمان کی حفاظت ہو سکے۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور قدیم قلمی نسخوں کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک شیخ کا اصل پیغام پہنچ سکے۔
English Description:
In this video, we continue our profound journey through the "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) chapter of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We will explore verses 10 through 16, which categorize distinct spiritual stations and types of friends of God (Awliya). We begin with the "Waqif" (The Standing One), a high-ranking spiritual figure who, despite his immense status in the Unseen, dedicates himself to the guidance of creation. We then discuss the "Zahir" (The Manifest One) positioned at the center of spiritual authority, possessing power that transcends all designated ranks. A critical analysis is provided regarding the "Shatih" (The Ecstatic Utterance Maker), warning how unchecked spiritual claims can reduce a seeker’s station to mere scattered dust (Haba), devoid of weight in the Divine presence.
Furthermore, we delve into the concept of "Nayyirat" (Radiant Lights) rising in the hearts, guiding the seeker to the Ultimate Meaning. We unpack the mystery of the "Ashiq" (Lover) who possesses the "Secret of Departure" (Sirr al-Dhahab), physically present but spiritually annihilated in the Divine. The video also covers the "Sahib al-Anfas" (Master of Breaths), who controls the intense fire of longing rather than being consumed by it. Finally, we conclude with the "Katim al-Sir" (Concealer of Secrets), referencing the Malamatiyya path—those who hide their saintly reality behind a veil of ordinariness to protect aspiring seekers from the overwhelming intensity of Divine Truth. This exposition relies on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ملامتیہ #سالک_و_مجذوب #شطحات #عاشق_الہی #معرفت #روحانیت #اسلامی_تصوف #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #فنا_و_بقا #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #KitabAlIsra #RafarifAlUla #SufiPoetry #IslamicMysticism #Malamatiyya #DivineLove #SufiPath #SpiritualStation #EsotericIslam #AbrarAhmedShahi #Shatih #FanaAndBaqa #SufiWisdom

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS41NTZEOThBNThFOUVGQkVB

Ep- 36 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے 16 اشعار | Ibn al-Arabi Baithak | 3 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 9, 2026 12:00 am

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے پہلے 9 اشعار، عربی متن اور مخطوطات کی ترتیب کے مطابق درج ذیل ہیں:
1. مشاہدہِ عجائب: فَعَايَنْتُ مِنْ عِلمِ الغُيُوبِ عَجَائِبًا ... تُصَانُ عَنْ التِّذْكَارِ فِي رَأي مَنْ وَعَى
2. صادحات (گانے والیاں): فَمِنْ صَادِحَاتٍ فَوْقَ غُصْنِ أَرَاكَةٍ ... يَهِجْنَ بِلَابِيْلَ الشَّجَى إِذَا خَلَا
3. نیراتِ سائلات (آسمانی روشنیاں): وَمِنْ نَـيِّرَاتٍ سَــائِلَاتٍ ذَوَاتَها ... أَفِيْضُوا عَلَيْنَا النُّورَ مِنْ قُرصَة الَمهَا
4. نقرِ اوتار (سازوں کے نغمے): وَمِنْ نَقْرِ أَوْتَارٍ بِأَيْدِي كَوَاعِبٍ ... عِذَاب الثَنَايَا طَاهِراتٍ مِنْ الـَخنَا
5. نافثاتِ سحر (پھونکنے والیاں): وَمِنْ نَافِثَاتِ السِّحْرِ فِي غَسَقِ الدُّجَى ... عَسَى وَلَعَلَّ الدَّهْرَ يَسْطُو بِـهِم غَدَا
6. اقوامِ کرام (برقع پوش): وَأَبْصَرتُ أَقَوَامًا كِـَرامًا تَبَرْقَعُوا ... وَلَوْ حَسَرَوا أضْحَتْ على أرضهَا السَّـمَا
7. سالک: فَمِنْ سَالِكٍ نَـهْجَ الطَّـرِيقِ مُسَافِرٍ ... إِلَى سَفْرٍ يَسْمُو وَفِي الغَيْبِ مَا سَـمَا
8. واصل: وَمِنْ وَاصِلٍ سِرَّ الحَقِيْقَةِ صَامِتٍ ... وَلَو نَطَقَ المِسْكِيْنُ عَجَّزَهُ الوَرَى
9. قائم بالحـال: وَمِنْ قَائمٍ بِالحَالِ فِي بِيْتِ مَقْدِسٍ ... فَلَا نَفْسُه تَظْمَا وَلَا سِرُّهُ ارْتَوَى--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (ابرار احمد شاہی کے انداز میں):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس نشست میں ہم شیخ اکبر محی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی شاہکار تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے انتہائی لطیف اور اسرار سے بھرپور باب "الرفارف العلی" (بلند و بالا تخت) کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان پہلے نو اشعار کا احاطہ کریں گے جو شیخ نے عالمِ بالا کے مشاہدات کے دوران قلمبند فرمائے۔ یاد رہے کہ شیخ اکبر کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں آپ نے کشف اور شہود کی حالت میں دیکھا اور پھر الفاظ کا جامہ پہنایا۔ یہاں ذکر کردہ اصطلاحات جیسے "صادحات" (گانے والیاں)، "نیرات" (روشنیاں) اور "کواعب" (دوشیزائیں) کو ان کے ظاہری معنوں میں ہرگز نہ لیا جائے، بلکہ شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی تصریحات کے مطابق یہ عالمِ ارواح، ملائکہ اور اسمائے الہیہ کے لطیف اشارے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "سالک" اور "واصل" کے فرق کو واضح کیا ہے کہ سالک ابھی سفر میں ہے جبکہ واصل حقیقت کے راز کو پا کر خاموش ہو چکا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے وہ راز افشا کر دیا تو عقلیں دنگ رہ جائیں گی۔ اسی طرح ہم ان مقدس نفوس کا ذکر کریں گے جنہوں نے جلالِ الہی کی وجہ سے نقاب اوڑھ رکھے ہیں کہ اگر وہ چہرہ بے نقاب کریں تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یہ ویڈیو ان طالبینِ حق کے لیے ایک نادر تحفہ ہے جو شیخ اکبر کے علوم کو تحقیق شدہ عربی متن اور مستند شروحات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔
English Description:
In this video, we delve into the profound spiritual insights of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi (may Allah sanctify his secret) from his seminal work, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the first nine verses of the chapter "al-Rafārif al-‘Ulā" (The Celestial Carpets/Veils). These verses represent the spiritual visions witnessed by Ibn Arabi during his ascension through the higher realms. It is crucial to understand that the imagery used here—such as "Singing birds" (Sadihat), "Radiant Lights" (Nayyirat), and "Maidens" (Kawa'ib)—are metaphorical expressions for Divine Names, angelic spirits, and metaphysical realities, as clarified by the classic commentaries like that of Ismail ibn Sawdakin.
We will unpack the distinction Ibn Arabi draws between the "Traveler" (Salik), who is still ascending through knowledge, and the "Arriver" (Wasil), who has attained the secret of Truth and chosen silence, knowing that speaking of the Ultimate Reality would incapacitate the minds of creation. We also discuss the "Veiled Ones," whose spiritual intensity is so immense that their unveiling would collapse the cosmic order. This video presents a critical analysis based on verified manuscripts, offering a rare glimpse into the esoteric cosmology of Ibn Arabi for students of Sufism and Islamic spirituality.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #تصوف #صوفیانه_کلام #روحانی_معراج #عرفان #اسلامی_تصوف #سالک_و_واصل #اسرار_الہیہ #شرح_ابن_عربی #رفارف_العلی #ابرار_احمد_شاہی #ابن_سودکین #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #IslamicSpirituality #KitabAlIsra #SufiPoetry #SpiritualAscension #Mysticism #SufiTeachings #IbnArabiBooks #AbrarAhmedShahi #EsotericKnowledge #DivineLove #SufiWisdom #SpiritualJourney

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے پہلے 9 اشعار، عربی متن اور مخطوطات کی ترتیب کے مطابق درج ذیل ہیں:
1. مشاہدہِ عجائب: فَعَايَنْتُ مِنْ عِلمِ الغُيُوبِ عَجَائِبًا … تُصَانُ عَنْ التِّذْكَارِ فِي رَأي مَنْ وَعَى
2. صادحات (گانے والیاں): فَمِنْ صَادِحَاتٍ فَوْقَ غُصْنِ أَرَاكَةٍ … يَهِجْنَ بِلَابِيْلَ الشَّجَى إِذَا خَلَا
3. نیراتِ سائلات (آسمانی روشنیاں): وَمِنْ نَـيِّرَاتٍ سَــائِلَاتٍ ذَوَاتَها … أَفِيْضُوا عَلَيْنَا النُّورَ مِنْ قُرصَة الَمهَا
4. نقرِ اوتار (سازوں کے نغمے): وَمِنْ نَقْرِ أَوْتَارٍ بِأَيْدِي كَوَاعِبٍ … عِذَاب الثَنَايَا طَاهِراتٍ مِنْ الـَخنَا
5. نافثاتِ سحر (پھونکنے والیاں): وَمِنْ نَافِثَاتِ السِّحْرِ فِي غَسَقِ الدُّجَى … عَسَى وَلَعَلَّ الدَّهْرَ يَسْطُو بِـهِم غَدَا
6. اقوامِ کرام (برقع پوش): وَأَبْصَرتُ أَقَوَامًا كِـَرامًا تَبَرْقَعُوا … وَلَوْ حَسَرَوا أضْحَتْ على أرضهَا السَّـمَا
7. سالک: فَمِنْ سَالِكٍ نَـهْجَ الطَّـرِيقِ مُسَافِرٍ … إِلَى سَفْرٍ يَسْمُو وَفِي الغَيْبِ مَا سَـمَا
8. واصل: وَمِنْ وَاصِلٍ سِرَّ الحَقِيْقَةِ صَامِتٍ … وَلَو نَطَقَ المِسْكِيْنُ عَجَّزَهُ الوَرَى
9. قائم بالحـال: وَمِنْ قَائمٍ بِالحَالِ فِي بِيْتِ مَقْدِسٍ … فَلَا نَفْسُه تَظْمَا وَلَا سِرُّهُ ارْتَوَى

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (ابرار احمد شاہی کے انداز میں):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس نشست میں ہم شیخ اکبر محی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی شاہکار تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے انتہائی لطیف اور اسرار سے بھرپور باب "الرفارف العلی" (بلند و بالا تخت) کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان پہلے نو اشعار کا احاطہ کریں گے جو شیخ نے عالمِ بالا کے مشاہدات کے دوران قلمبند فرمائے۔ یاد رہے کہ شیخ اکبر کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں آپ نے کشف اور شہود کی حالت میں دیکھا اور پھر الفاظ کا جامہ پہنایا۔ یہاں ذکر کردہ اصطلاحات جیسے "صادحات" (گانے والیاں)، "نیرات" (روشنیاں) اور "کواعب" (دوشیزائیں) کو ان کے ظاہری معنوں میں ہرگز نہ لیا جائے، بلکہ شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی تصریحات کے مطابق یہ عالمِ ارواح، ملائکہ اور اسمائے الہیہ کے لطیف اشارے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "سالک" اور "واصل" کے فرق کو واضح کیا ہے کہ سالک ابھی سفر میں ہے جبکہ واصل حقیقت کے راز کو پا کر خاموش ہو چکا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے وہ راز افشا کر دیا تو عقلیں دنگ رہ جائیں گی۔ اسی طرح ہم ان مقدس نفوس کا ذکر کریں گے جنہوں نے جلالِ الہی کی وجہ سے نقاب اوڑھ رکھے ہیں کہ اگر وہ چہرہ بے نقاب کریں تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یہ ویڈیو ان طالبینِ حق کے لیے ایک نادر تحفہ ہے جو شیخ اکبر کے علوم کو تحقیق شدہ عربی متن اور مستند شروحات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔
English Description:
In this video, we delve into the profound spiritual insights of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi (may Allah sanctify his secret) from his seminal work, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the first nine verses of the chapter "al-Rafārif al-‘Ulā" (The Celestial Carpets/Veils). These verses represent the spiritual visions witnessed by Ibn Arabi during his ascension through the higher realms. It is crucial to understand that the imagery used here—such as "Singing birds" (Sadihat), "Radiant Lights" (Nayyirat), and "Maidens" (Kawa'ib)—are metaphorical expressions for Divine Names, angelic spirits, and metaphysical realities, as clarified by the classic commentaries like that of Ismail ibn Sawdakin.
We will unpack the distinction Ibn Arabi draws between the "Traveler" (Salik), who is still ascending through knowledge, and the "Arriver" (Wasil), who has attained the secret of Truth and chosen silence, knowing that speaking of the Ultimate Reality would incapacitate the minds of creation. We also discuss the "Veiled Ones," whose spiritual intensity is so immense that their unveiling would collapse the cosmic order. This video presents a critical analysis based on verified manuscripts, offering a rare glimpse into the esoteric cosmology of Ibn Arabi for students of Sufism and Islamic spirituality.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #تصوف #صوفیانه_کلام #روحانی_معراج #عرفان #اسلامی_تصوف #سالک_و_واصل #اسرار_الہیہ #شرح_ابن_عربی #رفارف_العلی #ابرار_احمد_شاہی #ابن_سودکین #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #IslamicSpirituality #KitabAlIsra #SufiPoetry #SpiritualAscension #Mysticism #SufiTeachings #IbnArabiBooks #AbrarAhmedShahi #EsotericKnowledge #DivineLove #SufiWisdom #SpiritualJourney

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS42Qzk5MkEzQjVFQjYwRDA4

Ep- 35 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے 8 اشعار | Ibn al-Arabi Baithak | 3 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 8, 2026 12:16 pm

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے "ساتویں آسمان (سماء الغایة)" کے باب میں موجود مطلوبہ اشعار ترتیب وار درج ذیل ہیں:
بَلَغَ الغَــايَـةَ قَلْبُ فَتًى ... عَلِيَّةً فِي سَــابِقِ القِدَمِ
قَدْ أبَحْنَا لَثْـمُهَا فَـمَهُ ... لِيَـمينِ اللهِ مُسْتَلِـمِ
سَعْدَ نَفْسِي إِنَّها سَعِدَتْ ... بِسلوكِ الواضِحِ الأَمَــمِ
لَمْ يَنَلْهُ غَيْرُهَا عَاشِقًا ... مِثْلَهَا في سَالِفِ الأُمَــمِ
يَا رِجَالًا طَلَبُوا غَيْرَنَا ... أينَ جُودُ البَحْرِ مِنْ كَرَمي
ارْجِعُوا واسْتَلِمُوا كَفَّ مَنْ ... إِنْ يَهَبْ لَمْ يَخْشَ مِنْ عَدَمِ
كُلُّ طَـْرفٍ فِي العُلَى سَانِح ... نَحْوَنَا، وَجْدَاننَا يَرْتَمِي
كُلُّ سِرٍّ خَافِضٍ رَافِعٍ ... لِوُجُودِي رَغْبَةً يَنْتَـمِي
مُنْذُ حَلَّ الشَّمْسُ فِي حَمَلي ... أمِنُوا تَحِلَّةَ القَسَمِ
لَمْ نَزِلْ وَلَا نَزَالُ غَـدًا ... فِي نَعِيـٍـم غيرِ مُنْصَرِمِ
وَشُمُوسُ الوَصْلِ طَالِعَةٌ ... وَخُسُوفُ الهَجْرِ فِي العَدَمِ
اُنْظُروا قَوْلِي لَكُمْ فَلَقَدْ ... عَيْنُ كُلِّ النَّاسِ عَنْهُ عَـمي
تَجِدُوهُ وَاضِحًا حَسَنًا ... مُنْبِئًا عَنْ رُتْبَةِ الكَرَمِ
يَا إِلَهَ الخَلْقِ يَا أَمْلَي ... وَسَمِيري في دُجَى الظُلَمِ
جُدّ عَلَي صَبٍّ حَلِيْفِ ضَنًي ... يَا كَثـِيرَ الفَضْـلِ وَالنِّعَـــمِ--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور نورانی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے ساتویں آسمان یعنی "سماء الغایہ" کے حقائق کا مطالعہ کریں گے۔ اس ویڈیو میں ہم ان ابیات کی تشریح کریں گے جو شیخ نے مقامِ ابراہیم اور بیت المعمور کے مشاہدے کے بعد قلمبند فرمائے۔ شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ "ایک جواں مرد کا دل اس بلند ترین غایہ کو پہنچ گیا جو سابق قدم (ازل) میں طے شدہ تھی"۔ یہ اشعار درحقیقت اس روحانی معراج کی انتہا کا بیان ہیں جہاں سالک "یمین اللہ" (اللہ کا دایاں ہاتھ) کا استلام کرتا ہے، جو کہ حجر اسود کی روحانی حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے۔
یہاں شیخ نے اس "فتویٰ" کا ذکر کیا ہے جو کامل یقین اور معرفت کے بعد دل کو عطا ہوتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "شمس" کے "حمل" میں حلول کرنے کی اصطلاح استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب معرفت کا سورج سالک کے برج میں طلوع ہوتا ہے تو تمام قسمیں پوری ہو جاتی ہیں اور وہ دائمی نعیم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ہے جو شیخ اکبر کے کلام میں موجود "شموس الوصل" اور "خسوف الہجر" کے معانی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ الفاظ محض شاعری نہیں بلکہ حقائقِ توحید کے وہ موتی ہیں جو شیخ نے عالمِ قدس سے چن کر اہل ذوق کی نذر کیے ہیں۔ ہم ان اشعار کے ذریعے "قطب شریعت" کے مقام اور اس کے فیوضات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہمارے دل بھی اس "جود البحر" سے سیراب ہو سکیں جس کا ذکر شیخ نے فرمایا ہے۔
English Description:
In this video, we delve into one of the most profound sections of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the verses from the chapter of the "Seventh Heaven" (Sama al-Ghayah), also known as the Heaven of the Ultimate Goal. These verses, beginning with "The heart of a spiritual youth reached the ultimate goal," describe the climax of the spiritual journey where the seeker arrives at the station of Abraham (peace be upon him) and the Inhabited House (Bayt al-Ma'mur). Ibn Arabi uses the metaphor of "kissing the Right Hand of God" (Yamin Allah), alluding to the esoteric reality of the Black Stone and the renewal of the primordial covenant.
We will unpack the symbolism of the "Sun entering the sign of Aries (Hamal)," which Ibn Arabi uses to signify a station of spiritual maturity, authority, and the fulfillment of Divine oaths. The Sheikh describes a state of perpetual bliss and connection ("Wusul") where the eclipse of separation ("Hajar") no longer exists. This video provides a detailed commentary on these verses, explaining how the "Pole of the Sacred Law" (Qutb al-Shariah) invites the seekers to leave the limited generosity of others and turn towards the boundless Ocean of Divine Generosity. Join us as we decode the terminology of the Sheikh to understand the stations of the "Fata" (Spiritual Knight) and the secrets of pre-eternal destiny mentioned in these sublime lines.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #قطب_شریعت #ساتواں_آسمان #روحانی_معراج #صوفیانه_کلام #تصوف #اسلامی_روحانیت #معرفت_الہی #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #الفتوحات_المکیہ #یمین_اللہ #مقام_ابراہیم #سماء_الغایہ #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #Sufism #IslamicSpirituality #SpiritualAscension #SufiPoetry #DivineLove #SevenHeavens #MaqamIbrahim #AbrarAhmedShahi #EsotericIslam #SufiWisdom #Mysticism #TheMeccanRevelations #IbnSawdakin #Qutb #DivineCovenant

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے "ساتویں آسمان (سماء الغایة)" کے باب میں موجود مطلوبہ اشعار ترتیب وار درج ذیل ہیں:
بَلَغَ الغَــايَـةَ قَلْبُ فَتًى … عَلِيَّةً فِي سَــابِقِ القِدَمِ
قَدْ أبَحْنَا لَثْـمُهَا فَـمَهُ … لِيَـمينِ اللهِ مُسْتَلِـمِ
سَعْدَ نَفْسِي إِنَّها سَعِدَتْ … بِسلوكِ الواضِحِ الأَمَــمِ
لَمْ يَنَلْهُ غَيْرُهَا عَاشِقًا … مِثْلَهَا في سَالِفِ الأُمَــمِ
يَا رِجَالًا طَلَبُوا غَيْرَنَا … أينَ جُودُ البَحْرِ مِنْ كَرَمي
ارْجِعُوا واسْتَلِمُوا كَفَّ مَنْ … إِنْ يَهَبْ لَمْ يَخْشَ مِنْ عَدَمِ
كُلُّ طَـْرفٍ فِي العُلَى سَانِح … نَحْوَنَا، وَجْدَاننَا يَرْتَمِي
كُلُّ سِرٍّ خَافِضٍ رَافِعٍ … لِوُجُودِي رَغْبَةً يَنْتَـمِي
مُنْذُ حَلَّ الشَّمْسُ فِي حَمَلي … أمِنُوا تَحِلَّةَ القَسَمِ
لَمْ نَزِلْ وَلَا نَزَالُ غَـدًا … فِي نَعِيـٍـم غيرِ مُنْصَرِمِ
وَشُمُوسُ الوَصْلِ طَالِعَةٌ … وَخُسُوفُ الهَجْرِ فِي العَدَمِ
اُنْظُروا قَوْلِي لَكُمْ فَلَقَدْ … عَيْنُ كُلِّ النَّاسِ عَنْهُ عَـمي
تَجِدُوهُ وَاضِحًا حَسَنًا … مُنْبِئًا عَنْ رُتْبَةِ الكَرَمِ
يَا إِلَهَ الخَلْقِ يَا أَمْلَي … وَسَمِيري في دُجَى الظُلَمِ
جُدّ عَلَي صَبٍّ حَلِيْفِ ضَنًي … يَا كَثـِيرَ الفَضْـلِ وَالنِّعَـــمِ

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور نورانی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے ساتویں آسمان یعنی "سماء الغایہ" کے حقائق کا مطالعہ کریں گے۔ اس ویڈیو میں ہم ان ابیات کی تشریح کریں گے جو شیخ نے مقامِ ابراہیم اور بیت المعمور کے مشاہدے کے بعد قلمبند فرمائے۔ شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ "ایک جواں مرد کا دل اس بلند ترین غایہ کو پہنچ گیا جو سابق قدم (ازل) میں طے شدہ تھی"۔ یہ اشعار درحقیقت اس روحانی معراج کی انتہا کا بیان ہیں جہاں سالک "یمین اللہ" (اللہ کا دایاں ہاتھ) کا استلام کرتا ہے، جو کہ حجر اسود کی روحانی حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے۔
یہاں شیخ نے اس "فتویٰ" کا ذکر کیا ہے جو کامل یقین اور معرفت کے بعد دل کو عطا ہوتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "شمس" کے "حمل" میں حلول کرنے کی اصطلاح استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب معرفت کا سورج سالک کے برج میں طلوع ہوتا ہے تو تمام قسمیں پوری ہو جاتی ہیں اور وہ دائمی نعیم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ہے جو شیخ اکبر کے کلام میں موجود "شموس الوصل" اور "خسوف الہجر" کے معانی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ الفاظ محض شاعری نہیں بلکہ حقائقِ توحید کے وہ موتی ہیں جو شیخ نے عالمِ قدس سے چن کر اہل ذوق کی نذر کیے ہیں۔ ہم ان اشعار کے ذریعے "قطب شریعت" کے مقام اور اس کے فیوضات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہمارے دل بھی اس "جود البحر" سے سیراب ہو سکیں جس کا ذکر شیخ نے فرمایا ہے۔
English Description:
In this video, we delve into one of the most profound sections of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the verses from the chapter of the "Seventh Heaven" (Sama al-Ghayah), also known as the Heaven of the Ultimate Goal. These verses, beginning with "The heart of a spiritual youth reached the ultimate goal," describe the climax of the spiritual journey where the seeker arrives at the station of Abraham (peace be upon him) and the Inhabited House (Bayt al-Ma'mur). Ibn Arabi uses the metaphor of "kissing the Right Hand of God" (Yamin Allah), alluding to the esoteric reality of the Black Stone and the renewal of the primordial covenant.
We will unpack the symbolism of the "Sun entering the sign of Aries (Hamal)," which Ibn Arabi uses to signify a station of spiritual maturity, authority, and the fulfillment of Divine oaths. The Sheikh describes a state of perpetual bliss and connection ("Wusul") where the eclipse of separation ("Hajar") no longer exists. This video provides a detailed commentary on these verses, explaining how the "Pole of the Sacred Law" (Qutb al-Shariah) invites the seekers to leave the limited generosity of others and turn towards the boundless Ocean of Divine Generosity. Join us as we decode the terminology of the Sheikh to understand the stations of the "Fata" (Spiritual Knight) and the secrets of pre-eternal destiny mentioned in these sublime lines.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #قطب_شریعت #ساتواں_آسمان #روحانی_معراج #صوفیانه_کلام #تصوف #اسلامی_روحانیت #معرفت_الہی #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #الفتوحات_المکیہ #یمین_اللہ #مقام_ابراہیم #سماء_الغایہ #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #Sufism #IslamicSpirituality #SpiritualAscension #SufiPoetry #DivineLove #SevenHeavens #MaqamIbrahim #AbrarAhmedShahi #EsotericIslam #SufiWisdom #Mysticism #TheMeccanRevelations #IbnSawdakin #Qutb #DivineCovenant

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS4zMEQ1MEIyRTFGNzhDQzFB

Ep- 34 | Kitab al-Isra | قطب شریعت نے کیا حقائق بتائے | Ibn al-Arabi Baithak | 27 Dec 2025

Ibn al-Arabi Foundation January 7, 2026 11:52 am

محترم ناظرین! زیر نظر ویڈیو میں سلطان العارفین، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز کی بلند پایہ تصنیف سے ماخوذ ایک ایسا عرفانی متن پیش خدمت ہے جو حقیقتِ انسانیہ کے عمیق ترین رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ حضرت شیخ اس حقیقت کو آشکار فرماتے ہیں کہ انسانِ کامل کا قلب ہی درحقیقت وہ باطنی کعبہ ہے جو جملہ مقاماتِ الہیہ کا مظہرِ اتم ہے اور جس نے حرمِ کعبہ کی نیابت میں تمام تجلیات کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں عرب و عجم کے ظاہری امتیازات مٹ جاتے ہیں اور سالک کا وجود خود طواف گاہ بن جاتا ہے۔ اس متن میں انسان کو کل کائنات کا سربستہ راز، تمام کلماتِ الہیہ کی گویا زبان اور عالمِ غیب و شہادت کی جامع تختی قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کا عکس نظر آتا ہے اور یہی وہ نور ہے جس سے کائنات کی تاریکیاں روشن ہوئیں۔ معرفت کے متلاشیوں کے لیے یہ ایک نایاب تحفہ ہے۔This video delves into profound Sufi teachings based on the profound writings of Sheikh Akbar Muhyiddin Ibn Arabi. The presented text explores the concept of the "Perfect Man" (Insan al-Kamil) as the ultimate spiritual reality of the Kaaba. It discusses how the purified human heart embodies all divine spiritual stations, transcending mere physical locations. The text reveals the human being as the supreme secret of the universe, the convergence point of the seen and unseen realms, and the ultimate manifestation of divine attributes. It is a deep journey into understanding the cosmic significance of the human soul as the primary reflection of divine light and the essence of creation.#ابن_عربی #شیخ_اکبر #تصوف #عرفان #حقیقت_انسانیہ #انسان_کامل #کعبہ #دل_کا_راز #روحانیت #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #صوفی_ازم #ابرار_احمد_شاہی #IbnArabi #SheikhAkbar #Sufism #Tasawwuf #IslamicSpirituality #InsanAlKamil #ThePerfectMan #Kaaba #Mysticism #SpiritualJourney #SufiTeachings #DivineSecrets #HeartOfTheBeliever

محترم ناظرین! زیر نظر ویڈیو میں سلطان العارفین، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز کی بلند پایہ تصنیف سے ماخوذ ایک ایسا عرفانی متن پیش خدمت ہے جو حقیقتِ انسانیہ کے عمیق ترین رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ حضرت شیخ اس حقیقت کو آشکار فرماتے ہیں کہ انسانِ کامل کا قلب ہی درحقیقت وہ باطنی کعبہ ہے جو جملہ مقاماتِ الہیہ کا مظہرِ اتم ہے اور جس نے حرمِ کعبہ کی نیابت میں تمام تجلیات کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں عرب و عجم کے ظاہری امتیازات مٹ جاتے ہیں اور سالک کا وجود خود طواف گاہ بن جاتا ہے۔ اس متن میں انسان کو کل کائنات کا سربستہ راز، تمام کلماتِ الہیہ کی گویا زبان اور عالمِ غیب و شہادت کی جامع تختی قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کا عکس نظر آتا ہے اور یہی وہ نور ہے جس سے کائنات کی تاریکیاں روشن ہوئیں۔ معرفت کے متلاشیوں کے لیے یہ ایک نایاب تحفہ ہے۔

This video delves into profound Sufi teachings based on the profound writings of Sheikh Akbar Muhyiddin Ibn Arabi. The presented text explores the concept of the "Perfect Man" (Insan al-Kamil) as the ultimate spiritual reality of the Kaaba. It discusses how the purified human heart embodies all divine spiritual stations, transcending mere physical locations. The text reveals the human being as the supreme secret of the universe, the convergence point of the seen and unseen realms, and the ultimate manifestation of divine attributes. It is a deep journey into understanding the cosmic significance of the human soul as the primary reflection of divine light and the essence of creation.

#ابن_عربی #شیخ_اکبر #تصوف #عرفان #حقیقت_انسانیہ #انسان_کامل #کعبہ #دل_کا_راز #روحانیت #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #صوفی_ازم #ابرار_احمد_شاہی #IbnArabi #SheikhAkbar #Sufism #Tasawwuf #IslamicSpirituality #InsanAlKamil #ThePerfectMan #Kaaba #Mysticism #SpiritualJourney #SufiTeachings #DivineSecrets #HeartOfTheBeliever

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS4xMzgwMzBERjQ4NjEzNUE5

Ep- 33 | Kitab al-Isra | کعبہ منبع ہدایت ہے| Ibn al-Arabi Baithak | 27 Dec 2025

Ibn al-Arabi Foundation January 6, 2026 2:55 pm

یہ یوٹیوب ویڈیو کی ایک جامع اور ادبی ڈسکرپشن ہے، جو شیخ اکبر ابن العربی کے افکار اور ابرار احمد شاہی کے مخصوص ترجمہ و تشریح کے انداز کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔تفصیل (Urdu Description)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ رب العالمین کے فضل و کرم سے آج ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی کے ان اسرارِ باطنی کی وضاحت کر رہے ہیں جو سالکِ راہِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اے طالبِ صادق! اپنے باطن کے بتوں کو پاش پاش کر دے، چاہے وہ بت بڑا ہو یا چھوٹا، اسے توڑنا ہی تیری اصل نجات ہے۔ کائنات کے عارضی انوارات یعنی ستاروں اور چاند کی چمک میں مت کھو جانا، بلکہ اپنی نظر اس سورج پر رکھ جو حقیقتِ کبریٰ ہے۔ محض سات آسمانوں کی سیر پر اکتفا نہ کر، بلکہ تیری منزل تو وہ مقامِ انتہا ہے جہاں رحمن کی تجلیات کا ظہور ہوتا ہے۔ اپنی ہمت کو بلند کر اور راہِ سلوک کی صعوبتوں کے لیے خود کو تیار رکھ۔ یاد رکھ، جب تیری روح کا سورج اپنے شرف کے مقام یعنی برجِ حمل میں داخل ہوتا ہے، تبھی تو نفس کی آگ سے بچ کر سلامتی کی منزل پاتا ہے۔ یہ وہ معرفت ہے جہاں مخلوق کو خالق پر دلیل نہیں بنایا جاتا بلکہ خالق کے نور سے مخلوق کے وجود کو دیکھا جاتا ہے۔ اللہ ہمیں ان رموز کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔English Description
In this profound session, we delve into the esoteric teachings of Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi, exploring the spiritual roadmap for the seeker of Truth. The Shaykh commands us to shatter the idols of the self—both the manifest and the hidden—to find true refuge in the Divine. We must not be distracted by the transient reflections of the stars or the moon; instead, our gaze must be fixed upon the Sun of Reality. True spiritual elevation requires one to transcend the seven heavens and aim for the ultimate horizon: the Throne of the All-Merciful (Istawa). This journey demands high ambition and the inner strength to endure the hardships of the path. As Ibn Arabi suggests, when the sun of one's spirit enters the sign of Aries—its house of exaltation—one attains safety from the fires of the lower self. This discourse provides a map for those who wish to witness the world through the light of the Creator rather than using the creation to justify the Existence of the Divine.ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #تصوف #معرفت #شیخ_اکبر #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #ابرار_احمد_شاہی #روحانیت #سلوک #توحید #برج_حمل #شرف_شمس #باطن #عرفان #اسلامی_تصوف #IbnAlArabi #Sufism #Spirituality #ShaykhAlAkbar #AbrarAhmedShahi #Metaphysics #IslamicMysticism #Aries #Exaltation #DivineLove #Wisdom #Esoteric #SpiritualJourney #Truth #IbnArabiBooks #SufiOrders #DivineKnowledge

یہ یوٹیوب ویڈیو کی ایک جامع اور ادبی ڈسکرپشن ہے، جو شیخ اکبر ابن العربی کے افکار اور ابرار احمد شاہی کے مخصوص ترجمہ و تشریح کے انداز کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔

تفصیل (Urdu Description)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ رب العالمین کے فضل و کرم سے آج ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی کے ان اسرارِ باطنی کی وضاحت کر رہے ہیں جو سالکِ راہِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اے طالبِ صادق! اپنے باطن کے بتوں کو پاش پاش کر دے، چاہے وہ بت بڑا ہو یا چھوٹا، اسے توڑنا ہی تیری اصل نجات ہے۔ کائنات کے عارضی انوارات یعنی ستاروں اور چاند کی چمک میں مت کھو جانا، بلکہ اپنی نظر اس سورج پر رکھ جو حقیقتِ کبریٰ ہے۔ محض سات آسمانوں کی سیر پر اکتفا نہ کر، بلکہ تیری منزل تو وہ مقامِ انتہا ہے جہاں رحمن کی تجلیات کا ظہور ہوتا ہے۔ اپنی ہمت کو بلند کر اور راہِ سلوک کی صعوبتوں کے لیے خود کو تیار رکھ۔ یاد رکھ، جب تیری روح کا سورج اپنے شرف کے مقام یعنی برجِ حمل میں داخل ہوتا ہے، تبھی تو نفس کی آگ سے بچ کر سلامتی کی منزل پاتا ہے۔ یہ وہ معرفت ہے جہاں مخلوق کو خالق پر دلیل نہیں بنایا جاتا بلکہ خالق کے نور سے مخلوق کے وجود کو دیکھا جاتا ہے۔ اللہ ہمیں ان رموز کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

English Description
In this profound session, we delve into the esoteric teachings of Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi, exploring the spiritual roadmap for the seeker of Truth. The Shaykh commands us to shatter the idols of the self—both the manifest and the hidden—to find true refuge in the Divine. We must not be distracted by the transient reflections of the stars or the moon; instead, our gaze must be fixed upon the Sun of Reality. True spiritual elevation requires one to transcend the seven heavens and aim for the ultimate horizon: the Throne of the All-Merciful (Istawa). This journey demands high ambition and the inner strength to endure the hardships of the path. As Ibn Arabi suggests, when the sun of one's spirit enters the sign of Aries—its house of exaltation—one attains safety from the fires of the lower self. This discourse provides a map for those who wish to witness the world through the light of the Creator rather than using the creation to justify the Existence of the Divine.

ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #تصوف #معرفت #شیخ_اکبر #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #ابرار_احمد_شاہی #روحانیت #سلوک #توحید #برج_حمل #شرف_شمس #باطن #عرفان #اسلامی_تصوف #IbnAlArabi #Sufism #Spirituality #ShaykhAlAkbar #AbrarAhmedShahi #Metaphysics #IslamicMysticism #Aries #Exaltation #DivineLove #Wisdom #Esoteric #SpiritualJourney #Truth #IbnArabiBooks #SufiOrders #DivineKnowledge

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS44QzVGQUU2QjE2NDgxM0M4

Ep- 32 | Kitab al-Isra | ابراہیم علیہ السلام کے اشارات| Ibn al-Arabi Baithak | 20 Dec 2025

Ibn al-Arabi Foundation January 2, 2026 9:00 am

عارفِ ربانی شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی کے ان کلماتِ قدسیہ میں سالکِ راہِ حق کے لیے بصیرت کے انمول خزانے پوشیدہ ہیں۔ شیخِ اکبر نصیحت فرماتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ کا مرکز مخلوق کو بنانے کے بجائے حق تعالیٰ کو اپنا خلیفہ اور کارساز بنائے اور پھر اس پر کامل بھروسا کرتے ہوئے اپنی مرادیں اسی کے سپرد کر دے۔ روحانی طلب اور حاجت روائی کے آداب سکھاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ جب تک انسان کو شرائطِ طلب اور تفاصیل کا علم نہ ہو، اسے فضول تمناؤں سے گریز کرنا چاہیے۔ علم کے متلاشیوں کے لیے یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ وہ محض ظاہری الفاظ یا "نص" کے پیروکار بن کر نہ رہ جائیں بلکہ تحقیق اور تفتیش کے ذریعے باطنی معانی تک رسائی حاصل کریں۔اس کلام میں انتباہ کیا گیا ہے کہ انسان بدبختوں کی پیروی نہ کرے اور اپنے بھائی کی قدر کو پہچانے۔ روحانیت میں غلو سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ باطن کی طرف توجہ اتنی زیادہ نہ ہو جائے کہ ظاہر کی ذمہ داریاں اور شریعت کے تقاضے پامال ہونے لگیں۔ نیند کی حالت کو بھی ایک فہم کا ذریعہ بتایا گیا ہے کیونکہ عالمِ برزخ سے حقیقی ادراک وہیں سے حاصل ہوتا ہے۔ آخر میں اخلاقِ عالیہ کا درس دیتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں کہ حق کے سامنے عاجزی اختیار کی جائے، لیکن جو تکبر کرے اس کے سامنے جبار بن کر حق کی برتری کو ظاہر کیا جائے۔Video Description (English)
This video presents the profound spiritual teachings of Shaykh al-Akbar Muhyiddin ibn al-Arabi, offering a guiding light for seekers of the truth. The Shaykh emphasizes that a seeker should not make creation the center of their attention or their deputy; instead, one must rely on the Truth (Al-Haqq) as the ultimate successor and trust in His divine actions. Addressing the etiquette of spiritual requests, the text advises against asking for divine provisions or fulfillment of needs without first understanding the necessary conditions and deeper meanings of such requests.A pivotal lesson in this discourse is the transition from literalism to realization. While literal texts provide outward direction, the Shaykh encourages seekers to move beyond "Nass" (literal words) and embrace a path of rigorous investigation and spiritual inquiry to uncover hidden meanings. Furthermore, the teachings warn against following the path of the wretched and stress the vital balance between the inward and the outward; one must not become so absorbed in the spiritual realm that outward responsibilities or the rights of others are neglected. Sleep is highlighted as a state of potential enlightenment where understanding is granted through the realm of Barzakh. Finally, the discourse clarifies the correct application of strength and pride: absolute humility before God, yet firm dignity against those who are arrogant.ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #تصوف #معرفت #حق_تعالیٰ #شیخ_اکبر #ابرار_احمد_شاہی #باطنی_سفر #فقہ_و_حقیقت #عالم_برزخ #تحقیق #سلوک #عرفان #ابن_سودکین #اسلامی_تصوف #روحانیت #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #IbnArabi #Sufism #Spirituality #IbnulArabi #DivineWisdom #SpiritualJourney #Mysticism #IslamicPhilosophy #EsotericKnowledge #IbnArabiFoundation #InnerPeace #WisdomQuotes #TraditionalKnowledge

عارفِ ربانی شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی کے ان کلماتِ قدسیہ میں سالکِ راہِ حق کے لیے بصیرت کے انمول خزانے پوشیدہ ہیں۔ شیخِ اکبر نصیحت فرماتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ کا مرکز مخلوق کو بنانے کے بجائے حق تعالیٰ کو اپنا خلیفہ اور کارساز بنائے اور پھر اس پر کامل بھروسا کرتے ہوئے اپنی مرادیں اسی کے سپرد کر دے۔ روحانی طلب اور حاجت روائی کے آداب سکھاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ جب تک انسان کو شرائطِ طلب اور تفاصیل کا علم نہ ہو، اسے فضول تمناؤں سے گریز کرنا چاہیے۔ علم کے متلاشیوں کے لیے یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ وہ محض ظاہری الفاظ یا "نص" کے پیروکار بن کر نہ رہ جائیں بلکہ تحقیق اور تفتیش کے ذریعے باطنی معانی تک رسائی حاصل کریں۔

اس کلام میں انتباہ کیا گیا ہے کہ انسان بدبختوں کی پیروی نہ کرے اور اپنے بھائی کی قدر کو پہچانے۔ روحانیت میں غلو سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ باطن کی طرف توجہ اتنی زیادہ نہ ہو جائے کہ ظاہر کی ذمہ داریاں اور شریعت کے تقاضے پامال ہونے لگیں۔ نیند کی حالت کو بھی ایک فہم کا ذریعہ بتایا گیا ہے کیونکہ عالمِ برزخ سے حقیقی ادراک وہیں سے حاصل ہوتا ہے۔ آخر میں اخلاقِ عالیہ کا درس دیتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں کہ حق کے سامنے عاجزی اختیار کی جائے، لیکن جو تکبر کرے اس کے سامنے جبار بن کر حق کی برتری کو ظاہر کیا جائے۔

Video Description (English)
This video presents the profound spiritual teachings of Shaykh al-Akbar Muhyiddin ibn al-Arabi, offering a guiding light for seekers of the truth. The Shaykh emphasizes that a seeker should not make creation the center of their attention or their deputy; instead, one must rely on the Truth (Al-Haqq) as the ultimate successor and trust in His divine actions. Addressing the etiquette of spiritual requests, the text advises against asking for divine provisions or fulfillment of needs without first understanding the necessary conditions and deeper meanings of such requests.

A pivotal lesson in this discourse is the transition from literalism to realization. While literal texts provide outward direction, the Shaykh encourages seekers to move beyond "Nass" (literal words) and embrace a path of rigorous investigation and spiritual inquiry to uncover hidden meanings. Furthermore, the teachings warn against following the path of the wretched and stress the vital balance between the inward and the outward; one must not become so absorbed in the spiritual realm that outward responsibilities or the rights of others are neglected. Sleep is highlighted as a state of potential enlightenment where understanding is granted through the realm of Barzakh. Finally, the discourse clarifies the correct application of strength and pride: absolute humility before God, yet firm dignity against those who are arrogant.

ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #تصوف #معرفت #حق_تعالیٰ #شیخ_اکبر #ابرار_احمد_شاہی #باطنی_سفر #فقہ_و_حقیقت #عالم_برزخ #تحقیق #سلوک #عرفان #ابن_سودکین #اسلامی_تصوف #روحانیت #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #IbnArabi #Sufism #Spirituality #IbnulArabi #DivineWisdom #SpiritualJourney #Mysticism #IslamicPhilosophy #EsotericKnowledge #IbnArabiFoundation #InnerPeace #WisdomQuotes #TraditionalKnowledge

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS5ENjI1QUI0MDI5NEQzODFE

Ep- 31 | Kitab al-Isra | ابراہیم علیہ السلام کے اشارات| Ibn al-Arabi Baithak |

Ibn al-Arabi Foundation January 1, 2026 6:26 pm

عارفِ ربانی شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی کے یہ کلماتِ قدسیہ سالکِ راہِ حق کو تجلیاتِ الہیہ کی طلب اور قلبِ مومن کی صفائی کی دعوت دیتے ہیں۔ حجِ مبرور سے مراد دراصل حق تعالیٰ کی تجلیات کا قصد کرنا ہے، جبکہ بیت المعمور وہ انسانی دل ہے جسے غیر اللہ کی آلائشوں سے پاک کرنا لازم ہے تاکہ جبلِ طور سے آنے والی ندائے غیبی سنائی دے سکے جو کہ مقامِ موسوی کی میراث ہے۔ شیخِ اکبر فرماتے ہیں کہ اگر انسان مخلوقات کے حجاب میں رہتے ہوئے باری تعالیٰ کی طرف سفر کرے گا تو اس کی کیفیت اور ہوگی، لیکن اگر وہ ماسوی اللہ سے قطع تعلق کر لے تو وہ نار کو بھی نور پائے گا اور پہلی ہی نظر میں اس کے تمام حجابات اٹھا دیے جائیں گے۔معاملاتِ زندگی اور روحانی سلوک میں توکل اور اسباب کے درمیان توازن کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ بھروسا صرف اس ذاتِ وحدہ لاشریک پر ہونا چاہیے، تاہم انسانی کمزوری کے پیشِ نظر اپنی ہی جنس سے مدد لینا نفس کی قوت کا سامان بن جاتا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تابوت پانی میں پھینکا گیا، اسی طرح سالک کو چاہیے کہ وہ اسباب کو اختیار تو کرے مگر نظر مسبب الاسباب پر رکھے۔ اگر خوف کا سامنا ہو تو ثابت قدمی ہی نجات کا راستہ ہے اور جب موت کا وقت آئے تو حیلہ سازی کے بجائے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جب بیداری اور نیند ہر حال میں توکل کامل ہو جائے تو حق تعالیٰ کی طرف سے ضیافت کا وعدہ ہے۔ یہ کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ نورِ مبین کی طرف جلدی کرنا ہی دراصل کامیابی ہے۔Video Description (English)
In this profound discourse, Shaykh al-Akbar Muhyiddin ibn al-Arabi illuminates the spiritual path for seekers of Divine manifestations. The Shaykh equates the "Hajj" with the quest for Divine Tajalliyat and emphasizes that the "Inhabited House" (Bayt al-Ma'mur) is actually the human heart that must be purified to receive the call from Mount Tur—representing the spiritual legacy of Moses. He explains that approaching the Truth while still entangled with creation brings a different experience than approaching Him in total isolation from the 'other'. In the latter state, what appears as fire is transformed into light, and the veils of separation are lifted instantly.The text further explores the delicate balance between absolute trust in God (Tawakkul) and the utilization of worldly means (Asbab). While the primary reliance must be on Allah alone, the Shaykh acknowledges human weakness and the role of worldly causes as a support for the soul. Using the metaphors of the ark, the lion, and the sea, he teaches that one must use worldly causes while keeping faith in Divine will. Ultimately, when a seeker achieves perfect reliance in both wakefulness and sleep, they receive Divine hospitality. This spiritual journey encourages hastening toward the "Clear Light" (Nur al-Mubin), accepting that the trials of one's community are part of the broader Divine plan.ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #تصوف #شیخ_اکبر #معرفت #روحانیت #توکل #ابرار_احمد_شاہی #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #مقام_موسوی #حج_تجلیات #بیت_المعمور #قلب_مومن #اسباب #تجلیات_الہیہ #نور_مبین #IbnArabi #Sufism #Spirituality #Mysticism #DivineWisdom #Tawakkul #IslamicPhilosophy #ShaykhAlAkbar #EsotericKnowledge #AbrarAhmedShahi #IslamicMysticism #HeartOfIslam #SpiritualJourney #Tajalliyat #MosaicLegacy #DivineManifestations #ClearLight

عارفِ ربانی شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی کے یہ کلماتِ قدسیہ سالکِ راہِ حق کو تجلیاتِ الہیہ کی طلب اور قلبِ مومن کی صفائی کی دعوت دیتے ہیں۔ حجِ مبرور سے مراد دراصل حق تعالیٰ کی تجلیات کا قصد کرنا ہے، جبکہ بیت المعمور وہ انسانی دل ہے جسے غیر اللہ کی آلائشوں سے پاک کرنا لازم ہے تاکہ جبلِ طور سے آنے والی ندائے غیبی سنائی دے سکے جو کہ مقامِ موسوی کی میراث ہے۔ شیخِ اکبر فرماتے ہیں کہ اگر انسان مخلوقات کے حجاب میں رہتے ہوئے باری تعالیٰ کی طرف سفر کرے گا تو اس کی کیفیت اور ہوگی، لیکن اگر وہ ماسوی اللہ سے قطع تعلق کر لے تو وہ نار کو بھی نور پائے گا اور پہلی ہی نظر میں اس کے تمام حجابات اٹھا دیے جائیں گے۔

معاملاتِ زندگی اور روحانی سلوک میں توکل اور اسباب کے درمیان توازن کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ بھروسا صرف اس ذاتِ وحدہ لاشریک پر ہونا چاہیے، تاہم انسانی کمزوری کے پیشِ نظر اپنی ہی جنس سے مدد لینا نفس کی قوت کا سامان بن جاتا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تابوت پانی میں پھینکا گیا، اسی طرح سالک کو چاہیے کہ وہ اسباب کو اختیار تو کرے مگر نظر مسبب الاسباب پر رکھے۔ اگر خوف کا سامنا ہو تو ثابت قدمی ہی نجات کا راستہ ہے اور جب موت کا وقت آئے تو حیلہ سازی کے بجائے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جب بیداری اور نیند ہر حال میں توکل کامل ہو جائے تو حق تعالیٰ کی طرف سے ضیافت کا وعدہ ہے۔ یہ کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ نورِ مبین کی طرف جلدی کرنا ہی دراصل کامیابی ہے۔

Video Description (English)
In this profound discourse, Shaykh al-Akbar Muhyiddin ibn al-Arabi illuminates the spiritual path for seekers of Divine manifestations. The Shaykh equates the "Hajj" with the quest for Divine Tajalliyat and emphasizes that the "Inhabited House" (Bayt al-Ma'mur) is actually the human heart that must be purified to receive the call from Mount Tur—representing the spiritual legacy of Moses. He explains that approaching the Truth while still entangled with creation brings a different experience than approaching Him in total isolation from the 'other'. In the latter state, what appears as fire is transformed into light, and the veils of separation are lifted instantly.

The text further explores the delicate balance between absolute trust in God (Tawakkul) and the utilization of worldly means (Asbab). While the primary reliance must be on Allah alone, the Shaykh acknowledges human weakness and the role of worldly causes as a support for the soul. Using the metaphors of the ark, the lion, and the sea, he teaches that one must use worldly causes while keeping faith in Divine will. Ultimately, when a seeker achieves perfect reliance in both wakefulness and sleep, they receive Divine hospitality. This spiritual journey encourages hastening toward the "Clear Light" (Nur al-Mubin), accepting that the trials of one's community are part of the broader Divine plan.

ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #تصوف #شیخ_اکبر #معرفت #روحانیت #توکل #ابرار_احمد_شاہی #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #مقام_موسوی #حج_تجلیات #بیت_المعمور #قلب_مومن #اسباب #تجلیات_الہیہ #نور_مبین #IbnArabi #Sufism #Spirituality #Mysticism #DivineWisdom #Tawakkul #IslamicPhilosophy #ShaykhAlAkbar #EsotericKnowledge #AbrarAhmedShahi #IslamicMysticism #HeartOfIslam #SpiritualJourney #Tajalliyat #MosaicLegacy #DivineManifestations #ClearLight

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS41RTNBREYwMkI5QzU3RkY2

Ep- 30 | Kitab al-Isra | موسی علیہ السلام کے اشارات| Ibn al-Arabi Baithak | 13 Dec 25

Ibn al-Arabi Foundation December 24, 2025 7:20 pm

یہ رہی آپ کی مطلوبہ ویڈیو ڈسکرپشن، ہیش ٹیگز اور کلیدی الفاظ:ویڈیو کی تفصیل (Urdu Description)شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی اپنی اس مایہ ناز تصنیف میں آدابِ بندگی اور اسرارِ توحید کے ایسے انمول موتی بکھیر رہے ہیں جو سالک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان لطیف رموز پر گفتگو کریں گے جہاں شیخ فرماتے ہیں کہ اپنی ہستی کو خالق کے نام سے پہلے مت لاؤ، مگر جہاں شریعت کا تقاضا ہو وہاں اس کی پیروی لازم ہے۔ پھر آپ حقیقتِ بادشاہت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقی حکمرانی اور سلطنت تو محض اللہ کی بندگی اور عاجزی میں پوشیدہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کرامات اور خوارقِ عادات کے اظہار سے حتی الامکان گریز کرے اور اپنی عبودیت کے محراب کو مضبوطی سے تھامے رکھے، کیونکہ اصل مقصود کسی دنیاوی سبب کا حصول نہیں بلکہ ذاتِ حق تک رسائی اور توحید کی سیڑھی چڑھنا ہے۔ اس درس میں تین تاریک راتوں اور تین روشنیوں کے اس فلسفے کو بھی بیان کیا گیا ہے جو انسان کو خوشی اور غم کی قید سے آزاد کر کے عالمِ قدس میں لے جاتا ہے۔ یہ ویڈیو ان تمام احباب کے لیے ہے جو تصوف کی باریکیوں، مقاماتِ ولایت اور شیخِ اکبر کے علوم کو سمجھنے کے متمنی ہیں۔Video Description (English)In this video, we delve into the profound wisdom of Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi regarding the deep etiquette of servitude and the secrets of Divine Oneness. The text explores the subtle balance between effacing oneself before the Creator and strictly adhering to the Sacred Law. Ibn al-Arabi elucidates that true sovereignty lies not in worldly power, but in realizing one's absolute servitude (Ubudiyyah) to God. The discussion highlights the spiritual danger of unnecessarily displaying miracles, urging the seeker instead to cling to the "Mihrab" (sanctuary) of worship solely for the sake of the Divine, making it a ladder to Tawhid rather than a means for worldly gain. We also unravel the mystical concept of the "three darknesses" and the corresponding lights that liberate a believer from the duality of joy and sorrow, transcending the realms of existence. This session is essential for anyone seeking to understand the spiritual path, the stations of the Sufis, and the timeless teachings of the Great Shaykh.Hashtags (ہیش ٹیگز)#IbnArabi #Sufism #SheikhAlAkbar #Spirituality #IslamicKnowledge #AbrarAhmedShahi #Mysticism #Tawhid #DivineLove #SufiTeachings #FutuhatMakkiyya #IbnSawdakin #IslamicPhilosophy #شیخ_اکبر #محیی_الدین_ابن_العربی #تصوف #روحانیت #اسلام #معرفت #ابرار_احمد_شاہی #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #اردو_لیکچر #صوفی_ازم #توحید #بندگی #اصلاح_نفس

یہ رہی آپ کی مطلوبہ ویڈیو ڈسکرپشن، ہیش ٹیگز اور کلیدی الفاظ:

ویڈیو کی تفصیل (Urdu Description)

شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی اپنی اس مایہ ناز تصنیف میں آدابِ بندگی اور اسرارِ توحید کے ایسے انمول موتی بکھیر رہے ہیں جو سالک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان لطیف رموز پر گفتگو کریں گے جہاں شیخ فرماتے ہیں کہ اپنی ہستی کو خالق کے نام سے پہلے مت لاؤ، مگر جہاں شریعت کا تقاضا ہو وہاں اس کی پیروی لازم ہے۔ پھر آپ حقیقتِ بادشاہت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقی حکمرانی اور سلطنت تو محض اللہ کی بندگی اور عاجزی میں پوشیدہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کرامات اور خوارقِ عادات کے اظہار سے حتی الامکان گریز کرے اور اپنی عبودیت کے محراب کو مضبوطی سے تھامے رکھے، کیونکہ اصل مقصود کسی دنیاوی سبب کا حصول نہیں بلکہ ذاتِ حق تک رسائی اور توحید کی سیڑھی چڑھنا ہے۔ اس درس میں تین تاریک راتوں اور تین روشنیوں کے اس فلسفے کو بھی بیان کیا گیا ہے جو انسان کو خوشی اور غم کی قید سے آزاد کر کے عالمِ قدس میں لے جاتا ہے۔ یہ ویڈیو ان تمام احباب کے لیے ہے جو تصوف کی باریکیوں، مقاماتِ ولایت اور شیخِ اکبر کے علوم کو سمجھنے کے متمنی ہیں۔

Video Description (English)

In this video, we delve into the profound wisdom of Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi regarding the deep etiquette of servitude and the secrets of Divine Oneness. The text explores the subtle balance between effacing oneself before the Creator and strictly adhering to the Sacred Law. Ibn al-Arabi elucidates that true sovereignty lies not in worldly power, but in realizing one's absolute servitude (Ubudiyyah) to God. The discussion highlights the spiritual danger of unnecessarily displaying miracles, urging the seeker instead to cling to the "Mihrab" (sanctuary) of worship solely for the sake of the Divine, making it a ladder to Tawhid rather than a means for worldly gain. We also unravel the mystical concept of the "three darknesses" and the corresponding lights that liberate a believer from the duality of joy and sorrow, transcending the realms of existence. This session is essential for anyone seeking to understand the spiritual path, the stations of the Sufis, and the timeless teachings of the Great Shaykh.

Hashtags (ہیش ٹیگز)

#IbnArabi #Sufism #SheikhAlAkbar #Spirituality #IslamicKnowledge #AbrarAhmedShahi #Mysticism #Tawhid #DivineLove #SufiTeachings #FutuhatMakkiyya #IbnSawdakin #IslamicPhilosophy #شیخ_اکبر #محیی_الدین_ابن_العربی #تصوف #روحانیت #اسلام #معرفت #ابرار_احمد_شاہی #فصوص_الحکم #فتوحات_مکیہ #اردو_لیکچر #صوفی_ازم #توحید #بندگی #اصلاح_نفس

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS40QzRDOEU0QUYwNUIxN0M1

Ep- 29 | Kitab al-Isra | سلیمان علیہ السلام کے اشارات | Ibn al-Arabi Baithak | 13 Dec 25

Ibn al-Arabi Foundation December 16, 2025 8:57 am