Kitab al-Isra [Book reading]

 

اس کلامِ بلاغت نظام میں قطبِ وحدت، شیخِ اکبر محیی الدین ابنِ العربی کے انوارِ باطنی اور مشاہداتِ حقانی کا تذکرہ ہے۔ سالکِ راہِ حق جب فنائیت کے پروں سے اڑان بھرتا ہے تو وہ مقامِ "او ادنیٰ" کی رفعتوں کو چھو لیتا ہے۔ یہاں خالق و مخلوق کے مابین وہ راز و نیاز منعقد ہوتے ہیں جہاں زبان خاموش اور دل ہمہ تن گوش ہوتا ہے۔ اس بیان میں امامِ وقت، حجۃ الاسلام امام غزالی کے علمی جواہر اور موجودہ عہد کے روحانی فیضان کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحریر ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم قرآنِ کریم کے باطنی اسرار، حروف کی حقیقتوں اور رموزِ معرفت میں غوطہ زن ہوں۔ یہ محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ روح کے اس سفر کی روداد ہے جو ظاہر کے چھلکے کو چاک کر کے باطن کے مغز تک رسائی حاصل کرنے کی تڑپ رکھتی ہے۔ الہامی تجلیات اور ربانی اشارات سے لبریز یہ کلام طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے تاکہ وہ کثرت کے حجابوں سے نکل کر وحدتِ مطلق کا مشاہدہ کر سکیں۔Part 2: English Description This video explores the profound mystical insights of the Great Master, Muhyiddin Ibn al-Arabi, specifically focusing on the sacred station of "Aw Adna" (Or Nearer). Through a spiritual dialogue, the text describes the seeker's journey using the "wings of annihilation" to reach the divine presence. It highlights a unique celestial comparison between the spiritual achievements of Imam Abu Hamid al-Ghazali and the refined wisdom granted to seekers in this era. The discourse delves into the esoteric secrets of the Holy Quran, transforming the "clay forms" into vessels of divine light. It challenges the seeker to move beyond the outer shell of religion to grasp the inner essence of truth. This presentation is a gateway for those searching for deeper gnosis, spiritual ascension, and the realization of divine unity within the heart.ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #شیخ_اکبر #تصوف #عرفان #روحانیت #سلوک #باطنی_علوم #امام_غزالی #معرفت_الہی #حق_یقین #اسرار_قرآن #مقامات_سلوک #فنا_فی_اللہ #وحدت_الوجود #IbnArabi #Sufism #Spirituality #IslamicMysticism #DivineGnosis #EsotericWisdom #SpiritualJourney #ImamGhazali #AwAdna #DivinePresence #MysticPath #Gnosis #Enlightenment #SoulAwakening

اس کلامِ بلاغت نظام میں قطبِ وحدت، شیخِ اکبر محیی الدین ابنِ العربی کے انوارِ باطنی اور مشاہداتِ حقانی کا تذکرہ ہے۔ سالکِ راہِ حق جب فنائیت کے پروں سے اڑان بھرتا ہے تو وہ مقامِ "او ادنیٰ" کی رفعتوں کو چھو لیتا ہے۔ یہاں خالق و مخلوق کے مابین وہ راز و نیاز منعقد ہوتے ہیں جہاں زبان خاموش اور دل ہمہ تن گوش ہوتا ہے۔ اس بیان میں امامِ وقت، حجۃ الاسلام امام غزالی کے علمی جواہر اور موجودہ عہد کے روحانی فیضان کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحریر ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم قرآنِ کریم کے باطنی اسرار، حروف کی حقیقتوں اور رموزِ معرفت میں غوطہ زن ہوں۔ یہ محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ روح کے اس سفر کی روداد ہے جو ظاہر کے چھلکے کو چاک کر کے باطن کے مغز تک رسائی حاصل کرنے کی تڑپ رکھتی ہے۔ الہامی تجلیات اور ربانی اشارات سے لبریز یہ کلام طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے تاکہ وہ کثرت کے حجابوں سے نکل کر وحدتِ مطلق کا مشاہدہ کر سکیں۔

Part 2: English Description This video explores the profound mystical insights of the Great Master, Muhyiddin Ibn al-Arabi, specifically focusing on the sacred station of "Aw Adna" (Or Nearer). Through a spiritual dialogue, the text describes the seeker's journey using the "wings of annihilation" to reach the divine presence. It highlights a unique celestial comparison between the spiritual achievements of Imam Abu Hamid al-Ghazali and the refined wisdom granted to seekers in this era. The discourse delves into the esoteric secrets of the Holy Quran, transforming the "clay forms" into vessels of divine light. It challenges the seeker to move beyond the outer shell of religion to grasp the inner essence of truth. This presentation is a gateway for those searching for deeper gnosis, spiritual ascension, and the realization of divine unity within the heart.

ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #شیخ_اکبر #تصوف #عرفان #روحانیت #سلوک #باطنی_علوم #امام_غزالی #معرفت_الہی #حق_یقین #اسرار_قرآن #مقامات_سلوک #فنا_فی_اللہ #وحدت_الوجود #IbnArabi #Sufism #Spirituality #IslamicMysticism #DivineGnosis #EsotericWisdom #SpiritualJourney #ImamGhazali #AwAdna #DivinePresence #MysticPath #Gnosis #Enlightenment #SoulAwakening

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS4zMUEyMkQwOTk0NTg4MDgw

Ep- 42 | Kitab al-Isra | مقام أو ادنی کی مناجات | Ibn al-Arabi Baithak | 17 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation February 4, 2026 3:57 pm

یوٹیوب ویڈیو ڈسکرپشن (اردو)
اللہ عزوجل کی حمد و ثنا اور حضور سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں ہدیہ درود و سلام کے بعد؛ یہ کلامِ بلاغت نظام شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی کے فیضانِ روحانی کا وہ بحرِ بیکراں ہے جس میں غواصِ معرفت کے لیے لعل و جواہر پنہاں ہیں۔ اس تحریر میں ان نفوسِ قدسیہ کا تذکرہ ہے جو فنا کے براق پر سوار ہو کر بارگاہِ رحمان کے مسافر بنے۔ یہ وہ عاشقانِ صادق ہیں جنہوں نے اپنے شب و روز یادِ الہیٰ میں بسر کیے اور قرآنِ کریم کے اسرار و رموز کو اپنے باطن میں اتار کر اخلاقِ نبوی کا کامل نمونہ بنے۔ یہ گروہِ حقانی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ سچے وارث ہیں جنہوں نے حبِ رسول کی سواری پر تمناؤں کے حرم سے گزر کر نور و برہان کے قدس تک رسائی حاصل کی۔ان صوفیائے کرام کے احوالِ باطنی کا بیان کرتے ہوئے شیخِ اکبر فرماتے ہیں کہ جب ان پر ہدایت کے در کھلے تو انہیں منزِلِ فرقان سے علم و بصیرت کا وہ رزق عطا ہوا جس نے ان کے وجود کے حجابات اٹھا دیے۔ ان کی چشمِ بصیرت نے وہ مناظر دیکھے جہاں ایک طرف رحمتِ الہیٰ کی مسکراہٹیں تھیں اور دوسری طرف جلالِ باری کے گریہ و زاری کے مقامات۔ انہوں نے عالمِ ناسوت سے گزر کر عالمِ لاہوت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحِ مجرد کا مشاہدہ کیا، یوسفِ جمال کے کمال اور ادریسِ عالی مقام کے مرتبے کو پہچانا۔ یہ وہ عارفین ہیں جنہوں نے ہارون و موسیٰ علیہما السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خلافتِ الہیٰ کا وہ مقام پایا جہاں فرشتے بھی سربسجود ہوئے۔ ان کی ہمتوں نے سدرۃ المنتہیٰ سے بھی بلند پرواز کی اور وہ مشاہدہِ ذاتِ باری تعالیٰ میں اس طرح غرق ہوئے کہ کائنات کی ہر شے ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ یہ سفر سرِ سرور سے لے کر مشاہدہِ حق تک کی وہ داستان ہے جہاں پہنچ کر عقلِ انسانی حیران و ششدر رہ جاتی ہے۔Video Description (English)
This profound discourse originates from the spiritual treasures of the "Greatest Master," Muhyiddin Ibn al-Arabi. It explores the sublime journey of the spiritual elite—those gnostics who traveled upon the mounts of "Fana" (annihilation) to reach the presence of the All-Merciful. These are the seekers who dedicated every moment of their existence to the remembrance of the Beloved, embodying the hidden secrets of the Quran and inheriting the spiritual legacy of the Hashimite Prophet, Muhammad (peace be upon him).The verses depict a celestial journey where the "Buraq of Love" carries the soul from the sanctuary of desires to the holy realms of Divine Light. Ibn al-Arabi masterfully illustrates the opening of the spiritual senses, where the seeker transcends the physical form to witness the metaphysical realities. From encountering the pure spirit of Jesus (AS) to witnessing the exalted stations of prophets like Joseph, Idris, Aaron, and Moses (peace be upon them all), the gnostic ultimately attains the station of Divine Caliphate. The journey culminates in the direct witnessing of the Divine Essence (Dhat), a state where the boundaries of the created universe dissolve, and the seeker is blessed with the eternal vision of the Absolute Truth. This is a call to those who aspire to transcend the mundane and seek the ultimate proximity to the Divine.ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #شیخ_اکبر #تصوف #معرفت #سلوک #عرفان #عشق_الہی #فنا_فی_اللہ #روحانیت #اسلامی_تصوف #حقیقت_محمدی #مشاہدہ_ذات #اسرار_الہی #اہل_اللہ #ولی_اللہ #کلام_عارفاں #وحدت_الوجود #سفر_باطن #ذکر_اللہ #قرآنی_اسرار #IbnArabi #Sufism #Spirituality #DivineLove #Mysticism #IslamicGnosis #SpiritualJourney #IslamicKnowledge #DivinePresence #SufiPoetry #TheGreatMaster #Fana #SpiritualAwakening #MysticVision #HolyLight #Truth #InnerPeace #Enlightenment #IslamicPhilosophy #Wisdom

یوٹیوب ویڈیو ڈسکرپشن (اردو)
اللہ عزوجل کی حمد و ثنا اور حضور سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں ہدیہ درود و سلام کے بعد؛ یہ کلامِ بلاغت نظام شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی کے فیضانِ روحانی کا وہ بحرِ بیکراں ہے جس میں غواصِ معرفت کے لیے لعل و جواہر پنہاں ہیں۔ اس تحریر میں ان نفوسِ قدسیہ کا تذکرہ ہے جو فنا کے براق پر سوار ہو کر بارگاہِ رحمان کے مسافر بنے۔ یہ وہ عاشقانِ صادق ہیں جنہوں نے اپنے شب و روز یادِ الہیٰ میں بسر کیے اور قرآنِ کریم کے اسرار و رموز کو اپنے باطن میں اتار کر اخلاقِ نبوی کا کامل نمونہ بنے۔ یہ گروہِ حقانی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ سچے وارث ہیں جنہوں نے حبِ رسول کی سواری پر تمناؤں کے حرم سے گزر کر نور و برہان کے قدس تک رسائی حاصل کی۔

ان صوفیائے کرام کے احوالِ باطنی کا بیان کرتے ہوئے شیخِ اکبر فرماتے ہیں کہ جب ان پر ہدایت کے در کھلے تو انہیں منزِلِ فرقان سے علم و بصیرت کا وہ رزق عطا ہوا جس نے ان کے وجود کے حجابات اٹھا دیے۔ ان کی چشمِ بصیرت نے وہ مناظر دیکھے جہاں ایک طرف رحمتِ الہیٰ کی مسکراہٹیں تھیں اور دوسری طرف جلالِ باری کے گریہ و زاری کے مقامات۔ انہوں نے عالمِ ناسوت سے گزر کر عالمِ لاہوت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحِ مجرد کا مشاہدہ کیا، یوسفِ جمال کے کمال اور ادریسِ عالی مقام کے مرتبے کو پہچانا۔ یہ وہ عارفین ہیں جنہوں نے ہارون و موسیٰ علیہما السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خلافتِ الہیٰ کا وہ مقام پایا جہاں فرشتے بھی سربسجود ہوئے۔ ان کی ہمتوں نے سدرۃ المنتہیٰ سے بھی بلند پرواز کی اور وہ مشاہدہِ ذاتِ باری تعالیٰ میں اس طرح غرق ہوئے کہ کائنات کی ہر شے ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ یہ سفر سرِ سرور سے لے کر مشاہدہِ حق تک کی وہ داستان ہے جہاں پہنچ کر عقلِ انسانی حیران و ششدر رہ جاتی ہے۔

Video Description (English)
This profound discourse originates from the spiritual treasures of the "Greatest Master," Muhyiddin Ibn al-Arabi. It explores the sublime journey of the spiritual elite—those gnostics who traveled upon the mounts of "Fana" (annihilation) to reach the presence of the All-Merciful. These are the seekers who dedicated every moment of their existence to the remembrance of the Beloved, embodying the hidden secrets of the Quran and inheriting the spiritual legacy of the Hashimite Prophet, Muhammad (peace be upon him).

The verses depict a celestial journey where the "Buraq of Love" carries the soul from the sanctuary of desires to the holy realms of Divine Light. Ibn al-Arabi masterfully illustrates the opening of the spiritual senses, where the seeker transcends the physical form to witness the metaphysical realities. From encountering the pure spirit of Jesus (AS) to witnessing the exalted stations of prophets like Joseph, Idris, Aaron, and Moses (peace be upon them all), the gnostic ultimately attains the station of Divine Caliphate. The journey culminates in the direct witnessing of the Divine Essence (Dhat), a state where the boundaries of the created universe dissolve, and the seeker is blessed with the eternal vision of the Absolute Truth. This is a call to those who aspire to transcend the mundane and seek the ultimate proximity to the Divine.

ہیش ٹیگز (Hashtags)
#ابن_العربی #شیخ_اکبر #تصوف #معرفت #سلوک #عرفان #عشق_الہی #فنا_فی_اللہ #روحانیت #اسلامی_تصوف #حقیقت_محمدی #مشاہدہ_ذات #اسرار_الہی #اہل_اللہ #ولی_اللہ #کلام_عارفاں #وحدت_الوجود #سفر_باطن #ذکر_اللہ #قرآنی_اسرار #IbnArabi #Sufism #Spirituality #DivineLove #Mysticism #IslamicGnosis #SpiritualJourney #IslamicKnowledge #DivinePresence #SufiPoetry #TheGreatMaster #Fana #SpiritualAwakening #MysticVision #HolyLight #Truth #InnerPeace #Enlightenment #IslamicPhilosophy #Wisdom

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS4wMTYxQzVBRDI1NEVDQUZE

Ep- 41 | Kitab al-Isra | قاب قوسین کی ملاقات | Ibn al-Arabi Baithak | 17 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation February 1, 2026 9:34 am

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے ان آخری اور انتہائی عمیق اشعار (شعر نمبر 30 تا 34) کے لیے یوٹیوب ویڈیو کی ڈسکرپشن درج ذیل ہے۔--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی لطیف اور حقائق سے پردہ اٹھانے والی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی شاہکار تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے اختتامی اشعار کی گہرائی میں اتریں گے۔ اس ویڈیو میں ہم اس "سائر" (سیر کرنے والے) کی حقیقت کو سمجھیں گے جو پانی پر چلنے والا ہے اور یہ اشارہ ہے اس عارف کی جانب جو "اقاویل" (بحث و مباحثے) اور "حجی" (عقل کی محدودیت) سے بلند ہو چکا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح یقین کا بازو (جناح یقین) پھیلانے والا ہوا میں "بلا ہویٰ" (بغیر خواہشِ نفس) کے پرواز کرتا ہے، جو کہ محمدی مشرب کے اولیا کا خاصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم شیخ کے اس عجیب نکتے پر بات کریں گے کہ ایک "باسط" (ہاتھ پھیلانے والا) کس طرح "بخیل" ہو سکتا ہے؟ یہاں ہم "قبض" اور "بسط" کے راز کو سمجھیں گے کہ اگر روکنا (قبض) نہ ہو تو عطا (ندیٰ) کی قدر و قیمت نہیں پہچانی جا سکتی۔
ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم ولایت کے دو متضاد اور عالی مقامات کا ذکر کریں گے۔ ایک وہ "صاحبِ انس" جو اللہ سے بے تکلفی کے باوجود "ہیبت" اور ادب کے مقام سے نہیں گرتا، اور دوسرا "صاحبِ محو" جسے قہر کے بجائے نسیمِ رحمت نے تراش کر (انبریٰ) غیر اللہ سے پاک کر دیا ہے۔ آخر میں ہم اولیا کے سردار یعنی "صاحبِ اثبات" کا ذکر کریں گے جس کا جلال عظیم ہے اور جس نے "جوزا" (آسمانی بلندی) کو تاج اور "سہا" (باریک ستارے) کو نعلین بنا رکھا ہے۔ یہ انسانِ کامل کی وہ وسعت ہے جو بلندی اور پستی دونوں پر محیط ہے۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور شیخ کی اصطلاحات کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک اصل حقائق پہنچ سکیں۔
English Description:
In this profound session, we reach the concluding verses of the "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) chapter from Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We delve into the esoteric meanings of the "Sa'ir" (The Traveler), a spiritual figure who transcends the limitations of discursive arguments (Aqawil) and intellect (Hija). We explore the metaphor of the gnostic who spreads the "Wing of Certainty" (Janah al-Yaqin) to fly in the spiritual air without the weight of carnal desire (Hawa), distinguishing between the stations of walking on water versus flying in the air. The video also unpacks the paradox of the "Spreader" (Basit) whose hands appear stingy, explaining the divine wisdom behind "Constriction" (Qabd) and how it defines the value of "Generosity" (Nada).
Furthermore, we analyze the station of the "Possessor of Intimacy" (Sahib Uns) who, despite his closeness to the Divine, never loses his state of "Awe" (Mahaba), maintaining perfect spiritual etiquette. We discuss the "Possessor of Erasure" (Sahib Mahw) who is purified not by wrath, but by a gentle breeze (Nasim). Finally, we culminate with the description of the "Possessor of Affirmation" (Sahib Ithbat), the highest station of the Perfect Man (Insan Kamil). Ibn Arabi describes him as having immense majesty, crowned with the constellation Gemini (Jawza) and shod with the star Suha, symbolizing his total encompassment of the cosmic order. This exposition relies on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #صاحب_اثبات #محو_اور_اثبات #قبض_و_بسط #انسان_کامل #تصوف #اسلامی_روحانیت #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #معرفت #صوفیانه_کلام #اسرار_ولایت #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #RafarifAlUla #Sufism #IslamicMysticism #SahibIthbat #MahwAndIthbat #QabdAndBast #InsanKamil #PerfectMan #SufiPoetry #AbrarAhmedShahi #DivineIntimacy #SpiritualAwe #SufiWisdom #EsotericIslam

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے ان آخری اور انتہائی عمیق اشعار (شعر نمبر 30 تا 34) کے لیے یوٹیوب ویڈیو کی ڈسکرپشن درج ذیل ہے۔

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی لطیف اور حقائق سے پردہ اٹھانے والی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی شاہکار تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے اختتامی اشعار کی گہرائی میں اتریں گے۔ اس ویڈیو میں ہم اس "سائر" (سیر کرنے والے) کی حقیقت کو سمجھیں گے جو پانی پر چلنے والا ہے اور یہ اشارہ ہے اس عارف کی جانب جو "اقاویل" (بحث و مباحثے) اور "حجی" (عقل کی محدودیت) سے بلند ہو چکا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح یقین کا بازو (جناح یقین) پھیلانے والا ہوا میں "بلا ہویٰ" (بغیر خواہشِ نفس) کے پرواز کرتا ہے، جو کہ محمدی مشرب کے اولیا کا خاصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم شیخ کے اس عجیب نکتے پر بات کریں گے کہ ایک "باسط" (ہاتھ پھیلانے والا) کس طرح "بخیل" ہو سکتا ہے؟ یہاں ہم "قبض" اور "بسط" کے راز کو سمجھیں گے کہ اگر روکنا (قبض) نہ ہو تو عطا (ندیٰ) کی قدر و قیمت نہیں پہچانی جا سکتی۔
ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم ولایت کے دو متضاد اور عالی مقامات کا ذکر کریں گے۔ ایک وہ "صاحبِ انس" جو اللہ سے بے تکلفی کے باوجود "ہیبت" اور ادب کے مقام سے نہیں گرتا، اور دوسرا "صاحبِ محو" جسے قہر کے بجائے نسیمِ رحمت نے تراش کر (انبریٰ) غیر اللہ سے پاک کر دیا ہے۔ آخر میں ہم اولیا کے سردار یعنی "صاحبِ اثبات" کا ذکر کریں گے جس کا جلال عظیم ہے اور جس نے "جوزا" (آسمانی بلندی) کو تاج اور "سہا" (باریک ستارے) کو نعلین بنا رکھا ہے۔ یہ انسانِ کامل کی وہ وسعت ہے جو بلندی اور پستی دونوں پر محیط ہے۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور شیخ کی اصطلاحات کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک اصل حقائق پہنچ سکیں۔
English Description:
In this profound session, we reach the concluding verses of the "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) chapter from Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We delve into the esoteric meanings of the "Sa'ir" (The Traveler), a spiritual figure who transcends the limitations of discursive arguments (Aqawil) and intellect (Hija). We explore the metaphor of the gnostic who spreads the "Wing of Certainty" (Janah al-Yaqin) to fly in the spiritual air without the weight of carnal desire (Hawa), distinguishing between the stations of walking on water versus flying in the air. The video also unpacks the paradox of the "Spreader" (Basit) whose hands appear stingy, explaining the divine wisdom behind "Constriction" (Qabd) and how it defines the value of "Generosity" (Nada).
Furthermore, we analyze the station of the "Possessor of Intimacy" (Sahib Uns) who, despite his closeness to the Divine, never loses his state of "Awe" (Mahaba), maintaining perfect spiritual etiquette. We discuss the "Possessor of Erasure" (Sahib Mahw) who is purified not by wrath, but by a gentle breeze (Nasim). Finally, we culminate with the description of the "Possessor of Affirmation" (Sahib Ithbat), the highest station of the Perfect Man (Insan Kamil). Ibn Arabi describes him as having immense majesty, crowned with the constellation Gemini (Jawza) and shod with the star Suha, symbolizing his total encompassment of the cosmic order. This exposition relies on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #صاحب_اثبات #محو_اور_اثبات #قبض_و_بسط #انسان_کامل #تصوف #اسلامی_روحانیت #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #معرفت #صوفیانه_کلام #اسرار_ولایت #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #RafarifAlUla #Sufism #IslamicMysticism #SahibIthbat #MahwAndIthbat #QabdAndBast #InsanKamil #PerfectMan #SufiPoetry #AbrarAhmedShahi #DivineIntimacy #SpiritualAwe #SufiWisdom #EsotericIslam

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS4wNEU1MTI4NkZEMzVBN0JF

Ep- 40 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے آخری اشعار | Ibn al-Arabi Baithak | 10 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 23, 2026 9:28 am

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 28 اور 29 (غربت سے واجد تک)، فراہم کردہ ذرائع کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1. غربت اور اصطلام: وَمِنْ غُرْبَةٍ وَالَمكْـرُ فِيْهَا مُضْمَّنٌ ... وَمِنْ إصْطِلَام ٍحَلَّ فِي مُضْمَرِ الحَشَا
2. واجد اور وجود: وَمِنْ وَاجِدٍ قَدْ قَامَ مِنْ مُتَوَاجِدٍ ... فَأَبْدَى لَهُ الوَجْدُ الوُجُودَ وَمَا نَـَهى--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور علمی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان لطیف اور باریک مقامات کا مطالعہ کریں گے جو سالک کی راہ میں پیش آتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم سب سے پہلے "غربت" کے اس مقام کو سمجھیں گے جو بظاہر تو ماسوی اللہ سے دوری کا نام ہے لیکن شیخ فرماتے ہیں کہ اس میں "مکر الہی" پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر سالک اپنے اس حال پر مطمئن ہو جائے اور ادب کا دامن چھوڑ دے تو یہ استدراج بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم "اصطلام" کی کیفیت بیان کریں گے جو ایک ایسی قہری تجلی ہے جو سالک کے باطن اور احشا میں اتر کر اس کے ہوش و خرد کو جڑ سے کاٹ دیتی ہے تاکہ وہ مکر سے محفوظ رہے۔
اس کے بعد ہم سلوک کے تین اہم ترین مدارج "تواجد"، "وجد" اور "وجود" پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ سچے وجد کی ابتدا اکثر "تواجد" یعنی وجد کو بلانے کی کوشش سے ہوتی ہے۔ جب یہ کوشش بارآور ہوتی ہے تو سالک "واجد" بن جاتا ہے۔ لیکن شیخ کے نزدیک وجد بذات خود منزل نہیں بلکہ منزل "وجود" ہے، یعنی وجد کے ذریعے حق تعالی کو پا لینا۔ اگر وجد میں حق کا شہود نہ ہو تو وہ ناقص ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ایک نادر موقع ہے جو شیخ اکبر کی اصطلاحات کی روشنی میں یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کس طرح ایک سالک کوشش سے وہب کی طرف اور حال سے مقام کی طرف سفر کرتا ہے اور کس طرح وجد اسے حقیقتِ حق تک پہنچا دیتا ہے جہاں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔
English Description:
In this video, we embark on a profound exploration of the spiritual stations described by Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi in his masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). Focusing on the chapter of "The Celestial Carpets" (Rafarif al-Ula), we analyze two critical verses that define the delicate balance between spiritual states and divine realities. We begin by unpacking the concept of "Ghurba" (Spiritual Estrangement/Exile). While this station usually signifies a noble detachment from creation, Ibn Arabi warns of a hidden "Divine Ruse" (Makr) embedded within it, where a seeker might become complacent or arrogant in their isolation. We contrast this with "Istilam" (Overwhelming Eradication), a powerful state of awe that penetrates the deepest recesses of the heart, cutting off the seeker's self-governance to protect them from spiritual deception.
Furthermore, we delve into the sophisticated Akbarian progression from "Tawajud" to "Wujud." We explain how the journey often starts with "Tawajud" (Simulated Ecstasy or inviting the state), which transforms into genuine "Wajd" (Ecstasy). However, unlike many other Sufi masters, Ibn Arabi asserts that the ultimate goal of ecstasy is "Wujud"—not merely existence, but the "Finding" of the Divine Reality within that state. We discuss how the verse illustrates a seeker who rises from the effort of simulation to the grace of finding, where the intensity of the find reveals the Absolute Existence of God, leading to an endless ascent without prohibition. This video is essential for students of Sufism wishing to understand the intricacies of Divine stratagems and the true meaning of finding God through ecstasy.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #وجد_اور_وجود #تواجد #اصطلام #مکر_الہی #معرفت #سالک #صوفیانه_کلام #اسلامی_روحانیت #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #فنا_و_بقا #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #KitabAlIsra #RafarifAlUla #IslamicMysticism #DivineRuse #Istilam #WajdAndWujud #SufiStates #SpiritualPsychology #AbrarAhmedShahi #EsotericIslam #SufiWisdom #FindingGod

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 28 اور 29 (غربت سے واجد تک)، فراہم کردہ ذرائع کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1. غربت اور اصطلام: وَمِنْ غُرْبَةٍ وَالَمكْـرُ فِيْهَا مُضْمَّنٌ … وَمِنْ إصْطِلَام ٍحَلَّ فِي مُضْمَرِ الحَشَا
2. واجد اور وجود: وَمِنْ وَاجِدٍ قَدْ قَامَ مِنْ مُتَوَاجِدٍ … فَأَبْدَى لَهُ الوَجْدُ الوُجُودَ وَمَا نَـَهى

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور علمی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان لطیف اور باریک مقامات کا مطالعہ کریں گے جو سالک کی راہ میں پیش آتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم سب سے پہلے "غربت" کے اس مقام کو سمجھیں گے جو بظاہر تو ماسوی اللہ سے دوری کا نام ہے لیکن شیخ فرماتے ہیں کہ اس میں "مکر الہی" پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر سالک اپنے اس حال پر مطمئن ہو جائے اور ادب کا دامن چھوڑ دے تو یہ استدراج بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم "اصطلام" کی کیفیت بیان کریں گے جو ایک ایسی قہری تجلی ہے جو سالک کے باطن اور احشا میں اتر کر اس کے ہوش و خرد کو جڑ سے کاٹ دیتی ہے تاکہ وہ مکر سے محفوظ رہے۔
اس کے بعد ہم سلوک کے تین اہم ترین مدارج "تواجد"، "وجد" اور "وجود" پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ سچے وجد کی ابتدا اکثر "تواجد" یعنی وجد کو بلانے کی کوشش سے ہوتی ہے۔ جب یہ کوشش بارآور ہوتی ہے تو سالک "واجد" بن جاتا ہے۔ لیکن شیخ کے نزدیک وجد بذات خود منزل نہیں بلکہ منزل "وجود" ہے، یعنی وجد کے ذریعے حق تعالی کو پا لینا۔ اگر وجد میں حق کا شہود نہ ہو تو وہ ناقص ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ایک نادر موقع ہے جو شیخ اکبر کی اصطلاحات کی روشنی میں یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کس طرح ایک سالک کوشش سے وہب کی طرف اور حال سے مقام کی طرف سفر کرتا ہے اور کس طرح وجد اسے حقیقتِ حق تک پہنچا دیتا ہے جہاں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔
English Description:
In this video, we embark on a profound exploration of the spiritual stations described by Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi in his masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). Focusing on the chapter of "The Celestial Carpets" (Rafarif al-Ula), we analyze two critical verses that define the delicate balance between spiritual states and divine realities. We begin by unpacking the concept of "Ghurba" (Spiritual Estrangement/Exile). While this station usually signifies a noble detachment from creation, Ibn Arabi warns of a hidden "Divine Ruse" (Makr) embedded within it, where a seeker might become complacent or arrogant in their isolation. We contrast this with "Istilam" (Overwhelming Eradication), a powerful state of awe that penetrates the deepest recesses of the heart, cutting off the seeker's self-governance to protect them from spiritual deception.
Furthermore, we delve into the sophisticated Akbarian progression from "Tawajud" to "Wujud." We explain how the journey often starts with "Tawajud" (Simulated Ecstasy or inviting the state), which transforms into genuine "Wajd" (Ecstasy). However, unlike many other Sufi masters, Ibn Arabi asserts that the ultimate goal of ecstasy is "Wujud"—not merely existence, but the "Finding" of the Divine Reality within that state. We discuss how the verse illustrates a seeker who rises from the effort of simulation to the grace of finding, where the intensity of the find reveals the Absolute Existence of God, leading to an endless ascent without prohibition. This video is essential for students of Sufism wishing to understand the intricacies of Divine stratagems and the true meaning of finding God through ecstasy.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #وجد_اور_وجود #تواجد #اصطلام #مکر_الہی #معرفت #سالک #صوفیانه_کلام #اسلامی_روحانیت #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #فنا_و_بقا #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #KitabAlIsra #RafarifAlUla #IslamicMysticism #DivineRuse #Istilam #WajdAndWujud #SufiStates #SpiritualPsychology #AbrarAhmedShahi #EsotericIslam #SufiWisdom #FindingGod

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS5CQkEwRDA0MDkwNUM2MDY1

Ep- 39 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے اشعار نمبر 28 تا 29 | Ibn al-Arabi Baithak | 10 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 22, 2026 8:15 am

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب **'الإسراء إلى المقام الأسرى'** کے باب **"الرفارف العُلیٰ"** کے اشعار نمبر 22 تا 27 (مستیقظ سے لے کر شارب تک)، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:**1. مستیقظ (بیدار ہونے والا):**
وَمُسْتَيْقَظٍ بِالانْزِعَاجٍ لِعِلَّةٍ ... أَصَابَتْهُ مَطْـُروحًا عَلَى فُرُشٍ الْعَمَى**2. صاحبِ تجلی:**
فَقَامَ لَهْ سِرُّ التَجَلِّي بِقَلْبِهِ ... فَلَمْ يَفْنَ فِي الغَيْرِ الدَّنِي وَلَا الدُنَا**3. شاہد (مشاہدہ کرنے والا):**
وَمِنْ شَاهِدٍ لِلْحَقِّ بِالْحَقِّ قَائمٌ ... لَهُ هِمَّةٌ تُفْنِي الزَّوَائِدَ وَالفَنَا**4. کاشف (صاحبِ کشف/ خضرؑ کا وارث):**
وَمِنْ كَاشِفٍ وَهُوَ الأَتمُّ حَقِيْقَةً ... وَلَوْلَا أَبُو العَبَّاسِ مَا اِنْصَرفَ القَضَا**5. حائر (حیرت زدہ):**
وَمِنْ حَائِرٍ قَدْ حَيَّرتْهُ لَوَائِحٌ ... تَقُولُ لَهُ: قَدْ أَفْلَحَ الْيَومَ مَنْ رَقَا**6. شارب (پینے والا):**
وَمِنْ شَارِبٍ حَتَّى القِيَامَة ما ارْتَوَى ... وَمِنْ ذَائِقٍ لَمْ يَدْرِ مَا لَذَّةُ الطُوَى***### **YouTube Video Description****اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):**حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور معرفت سے لبریز نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان اسرار کا پردہ اٹھائیں گے جو حقیقتِ محمدیہ اور مبدعِ اول کے مظاہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح "مستیقظ" (بیدار ہونے والا) اس "علت" (وجہ/تکلیف) کے ذریعے غفلت کے بستر سے اٹھتا ہے جو حق کی جانب سے تنبیہ بن کر آتی ہے اور اسے "انزعاج" (بے چینی) میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ہم اس "شاہد" کی ہمت کا تذکرہ کریں گے جو اتنی بلند ہے کہ وہ نہ صرف ماسوی اللہ (زوائد) کو فنا کرتی ہے بلکہ "فنا" کے شعور کو بھی فنا کر کے "فنا الفنا" اور بقا باللہ کے مقام پر فائز ہوتا ہے۔ یہ تمام مقامات دراصل اسی "حقیقتِ محمدیہ" کے پرتو ہیں جو کائنات کی اصل ہے۔ویڈیو کے اہم حصوں میں ہم اس "کاشف" کا ذکر کریں گے جو حقیقت میں کامل ترین ہے اور جس کے پاس حضرت خضر علیہ السلام (ابو العباس) کی وراثت ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ قضا کو کیسے ٹالا جاتا ہے۔ ہم "حائر" (حیرت زدہ) کے مقام کو سمجھیں گے جسے "لوائح" (غیبی انوار کی چمک) نے مقدس حیرت میں ڈال دیا ہے اور اسے بلندی کی بشارت دی ہے۔ آخر میں ہم اس "شارب" (پینے والے) کی لا محدود پیاس کا ذکر کریں گے جو قیامت تک سیراب نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ کا علم اور تجلیات لا محدود ہیں، لہذا عارف کی پیاس بھی ابدی ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ہے جو شیخ اکبر کے علوم کی روشنی میں ولایت کے ان باریک مقامات اور مبدعِ اول کے فیوضات کو سمجھنا چاہتے ہیں۔**English Description:**In this video, we delve deep into the profound spiritual insights of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi from his masterpiece, *Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra*. We explore the verses that describe the distinct stations of the *Awliya* (Friends of God) as reflections of the *Haqiqat-e-Muhammadiyya* (The Muhammadan Reality) or the *Mubda' Awwal* (The First Origination). We begin with the "Mustayqiz" (The Awakened One), who is roused from the slumber of heedlessness by a Divine Cause (*'Illa*) creating a spiritual agitation (*Inzi'aj*) within the heart. We then analyze the high station of the "Shahid" (The Witness), whose spiritual aspiration (*Himma*) is so potent that it annihilates not only the self but the very consciousness of annihilation itself (*Fana al-Fana*).The discussion proceeds to the station of the "Kashif" (The Discloser), identifying the archetype of *Abu al-Abbas* (Al-Khidr) and the secret knowledge of averting Divine Decree (*Qada*). We explain the state of the "Ha'ir" (The Perplexed), who is bewildered by the *Lawa'ih* (Divine Flashes) that beckon him to ascend further. Finally, we uncover the mystery of the "Sharib" (The Drinker) who drinks eternally yet is never satiated, symbolizing the infinite nature of Divine Knowledge and the perpetual thirst of the Gnostic. This exposition is based on the authoritative commentaries, including that of Ismail ibn Sawdakin, offering a rare glimpse into the esoteric hierarchy of Sufism.*****Hashtags (Urdu & English):**#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #حقیقت_محمدیہ #مبدع_اول #فنا_الفنا #خضر_علیہ_السلام #تصوف #اسلامی_روحانیت #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #لوائح #قضا_و_قدر #اسرار_ولایت #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #HaqiqatMuhammadiyya #MubdaAwwal #FirstOrigination #Sufism #IslamicMysticism #FanaAlFana #Khidr #DivineDecree #SpiritualAwakening #AbrarAhmedShahi #SufiStations #DivineThirst #EsotericIslam**Keywords (Urdu & English):**محیی الدین ابن العربی, شیخ اکبر, کتاب الاسرا, رفارف العلی, حقیقت محمدیہ, مبدع اول, انسان کامل, فنا اور بقا, خضر اور قضا, لوائح اور طوالع, روحانی پیاس, انزعاج اور علت, تصوف, اسلامی روحانیت, ابن سودکین, ابرار احمد شاہی, شرح کتاب الاسرا, مقامات ولایت, فتوحات مکیہ, Muhyiddin Ibn Arabi, Sheikh al Akbar, Kitab al Isra, Rafarif al Ula, Muhammadan Reality, First Origination, Mubda Awwal, Perfect Man, Insan al Kamil, Fana and Baqa, Khidr and Destiny, Lawa'ih and Tawali, Spiritual Thirst, Divine Agitation, Sufism, Islamic Mysticism, Ibn Sawdakin, Abrar Ahmed Shahi, Sufi Commentary, Stations of the Saints, The Meccan Revelations, Futuhat al Makkiyya

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب **'الإسراء إلى المقام الأسرى'** کے باب **"الرفارف العُلیٰ"** کے اشعار نمبر 22 تا 27 (مستیقظ سے لے کر شارب تک)، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:

**1. مستیقظ (بیدار ہونے والا):**
وَمُسْتَيْقَظٍ بِالانْزِعَاجٍ لِعِلَّةٍ … أَصَابَتْهُ مَطْـُروحًا عَلَى فُرُشٍ الْعَمَى

**2. صاحبِ تجلی:**
فَقَامَ لَهْ سِرُّ التَجَلِّي بِقَلْبِهِ … فَلَمْ يَفْنَ فِي الغَيْرِ الدَّنِي وَلَا الدُنَا

**3. شاہد (مشاہدہ کرنے والا):**
وَمِنْ شَاهِدٍ لِلْحَقِّ بِالْحَقِّ قَائمٌ … لَهُ هِمَّةٌ تُفْنِي الزَّوَائِدَ وَالفَنَا

**4. کاشف (صاحبِ کشف/ خضرؑ کا وارث):**
وَمِنْ كَاشِفٍ وَهُوَ الأَتمُّ حَقِيْقَةً … وَلَوْلَا أَبُو العَبَّاسِ مَا اِنْصَرفَ القَضَا

**5. حائر (حیرت زدہ):**
وَمِنْ حَائِرٍ قَدْ حَيَّرتْهُ لَوَائِحٌ … تَقُولُ لَهُ: قَدْ أَفْلَحَ الْيَومَ مَنْ رَقَا

**6. شارب (پینے والا):**
وَمِنْ شَارِبٍ حَتَّى القِيَامَة ما ارْتَوَى … وَمِنْ ذَائِقٍ لَمْ يَدْرِ مَا لَذَّةُ الطُوَى

***

### **YouTube Video Description**

**اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):**

حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور معرفت سے لبریز نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان اسرار کا پردہ اٹھائیں گے جو حقیقتِ محمدیہ اور مبدعِ اول کے مظاہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح "مستیقظ" (بیدار ہونے والا) اس "علت" (وجہ/تکلیف) کے ذریعے غفلت کے بستر سے اٹھتا ہے جو حق کی جانب سے تنبیہ بن کر آتی ہے اور اسے "انزعاج" (بے چینی) میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ہم اس "شاہد" کی ہمت کا تذکرہ کریں گے جو اتنی بلند ہے کہ وہ نہ صرف ماسوی اللہ (زوائد) کو فنا کرتی ہے بلکہ "فنا" کے شعور کو بھی فنا کر کے "فنا الفنا" اور بقا باللہ کے مقام پر فائز ہوتا ہے۔ یہ تمام مقامات دراصل اسی "حقیقتِ محمدیہ" کے پرتو ہیں جو کائنات کی اصل ہے۔

ویڈیو کے اہم حصوں میں ہم اس "کاشف" کا ذکر کریں گے جو حقیقت میں کامل ترین ہے اور جس کے پاس حضرت خضر علیہ السلام (ابو العباس) کی وراثت ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ قضا کو کیسے ٹالا جاتا ہے۔ ہم "حائر" (حیرت زدہ) کے مقام کو سمجھیں گے جسے "لوائح" (غیبی انوار کی چمک) نے مقدس حیرت میں ڈال دیا ہے اور اسے بلندی کی بشارت دی ہے۔ آخر میں ہم اس "شارب" (پینے والے) کی لا محدود پیاس کا ذکر کریں گے جو قیامت تک سیراب نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ کا علم اور تجلیات لا محدود ہیں، لہذا عارف کی پیاس بھی ابدی ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ہے جو شیخ اکبر کے علوم کی روشنی میں ولایت کے ان باریک مقامات اور مبدعِ اول کے فیوضات کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

**English Description:**

In this video, we delve deep into the profound spiritual insights of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi from his masterpiece, *Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra*. We explore the verses that describe the distinct stations of the *Awliya* (Friends of God) as reflections of the *Haqiqat-e-Muhammadiyya* (The Muhammadan Reality) or the *Mubda' Awwal* (The First Origination). We begin with the "Mustayqiz" (The Awakened One), who is roused from the slumber of heedlessness by a Divine Cause (*'Illa*) creating a spiritual agitation (*Inzi'aj*) within the heart. We then analyze the high station of the "Shahid" (The Witness), whose spiritual aspiration (*Himma*) is so potent that it annihilates not only the self but the very consciousness of annihilation itself (*Fana al-Fana*).

The discussion proceeds to the station of the "Kashif" (The Discloser), identifying the archetype of *Abu al-Abbas* (Al-Khidr) and the secret knowledge of averting Divine Decree (*Qada*). We explain the state of the "Ha'ir" (The Perplexed), who is bewildered by the *Lawa'ih* (Divine Flashes) that beckon him to ascend further. Finally, we uncover the mystery of the "Sharib" (The Drinker) who drinks eternally yet is never satiated, symbolizing the infinite nature of Divine Knowledge and the perpetual thirst of the Gnostic. This exposition is based on the authoritative commentaries, including that of Ismail ibn Sawdakin, offering a rare glimpse into the esoteric hierarchy of Sufism.

***

**Hashtags (Urdu & English):**

#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #حقیقت_محمدیہ #مبدع_اول #فنا_الفنا #خضر_علیہ_السلام #تصوف #اسلامی_روحانیت #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #لوائح #قضا_و_قدر #اسرار_ولایت #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #HaqiqatMuhammadiyya #MubdaAwwal #FirstOrigination #Sufism #IslamicMysticism #FanaAlFana #Khidr #DivineDecree #SpiritualAwakening #AbrarAhmedShahi #SufiStations #DivineThirst #EsotericIslam

**Keywords (Urdu & English):**

محیی الدین ابن العربی, شیخ اکبر, کتاب الاسرا, رفارف العلی, حقیقت محمدیہ, مبدع اول, انسان کامل, فنا اور بقا, خضر اور قضا, لوائح اور طوالع, روحانی پیاس, انزعاج اور علت, تصوف, اسلامی روحانیت, ابن سودکین, ابرار احمد شاہی, شرح کتاب الاسرا, مقامات ولایت, فتوحات مکیہ, Muhyiddin Ibn Arabi, Sheikh al Akbar, Kitab al Isra, Rafarif al Ula, Muhammadan Reality, First Origination, Mubda Awwal, Perfect Man, Insan al Kamil, Fana and Baqa, Khidr and Destiny, Lawa'ih and Tawali, Spiritual Thirst, Divine Agitation, Sufism, Islamic Mysticism, Ibn Sawdakin, Abrar Ahmed Shahi, Sufi Commentary, Stations of the Saints, The Meccan Revelations, Futuhat al Makkiyya

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS5GNjAwN0Y0QTFGOTVDMEMy

Ep- 38 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے اشعار نمبر 22 تا 27 | Ibn al-Arabi Baithak | 10 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 18, 2026 7:37 pm

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 17 تا 22 (فاضل سے مستیقظ تک)، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1. فاضل (صاحبِ فضل): وَمِنْ فَاضِلٍ وَالفَضْلُ حَقُّ وُجُودِهِ ... وَلَكِنّ مَا يَرْجُوهُ فِي رَاحَةِ النَّدَى
2. سید (ادیبِ زمانہ): وَمِنْ سَيِّدٍ أَمْسَى أَدِيبَ زَمَانِهِ ... يُقَابِل مَنْ يَلْقَاهُ مِنْ حَيْثُ مَا جَرَى
3. ماہر (ریاضت والا): وَمِنْ مَاهِرٍ حَازَ الرِّيَاضَةَ وَاعْتَلَا ... فَصَارَ يُنَادِي بِالأَسِنَّةِ وَاللُّهَابِ
4. متحل (صفات سے آراستہ): وَمِنْ مُتَحَلٍ بِالصَّفَاتِ التِيْ حَدَا ... أَجْسَادِهَا حَادِي المَنِيَّةِ للبَلَا
5. متخل (خالی ہونے والا): وَمِنْ مُتَخَلٍ طَالِبِ الأُنْسِ بِالَّذِي ... تَأَزَّرَ بِالِجسْمِ التُّرَابِي وَارْتَدَى
6. مستیقظ (بیدار ہونے والا): وَمُسْتَيْقَظٍ بِالانْزِعَاجٍ لِعِلَّةٍ ... أَصَابَتْهُ مَطْـُروحًا عَلَى فُرُشٍ الْعَمَى--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور معرفت سے لبریز نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان چھ اشعار کی گہرائی میں اتریں گے جو اولیا اللہ کے مختلف طبقات اور ان کے احوال بیان کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم سب سے پہلے اس "فاضل" کا ذکر کریں گے جو عدل کے مقام سے گزر کر "راحتِ ندیٰ" یعنی اللہ کے خالص جود و کرم کی پناہ مانگتا ہے۔ اس کے بعد ہم "سید" اور "ادیبِ زمانہ" کی معرفت حاصل کریں گے، یہ وہ کامل انسان ہے جو ہر تجلی اور ہر ملنے والے کا استقبال وہیں سے کرتا ہے جہاں سے وہ جاری ہوا ہے، اور وقت کے حکم کے مطابق چلتا ہے۔ ہم شیخ کے اس کلام کی روشنی میں "ماہر" کی ریاضت اور اس کے جلال کا بھی تذکرہ کریں گے جو باطل کے خلاف نیزوں اور شعلوں کی طرح پکارتا ہے۔
ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم سلوک کی دو اہم ترین اصطلاحات "تحلی" (صفات سے آراستہ ہونا) اور "تخلی" (غیر سے خالی ہونا) پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح "متحل" ولی اپنی صفاتِ الہیہ کے باوجود اپنے جسمانی انجام سے غافل نہیں ہوتا، اور کس طرح "متخل" ولی اس ذات سے انس چاہتا ہے جس نے خاکی جسم کا لباس اوڑھ رکھا ہے۔ آخر میں ہم اس "مستیقظ" (بیدار ہونے والے) کی حالت بیان کریں گے جسے غفلت کے بستر پر "انزعاج" (بے چینی) اور "علت" نے آ لیا اور وہ حقیقت کی طرف بیدار ہو گیا۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور شیخ کی دیگر کتب کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک اصل حقائق پہنچ سکیں۔
English Description:
In this video, we delve deep into the profound verses 17-22 from the chapter "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We explore the distinct spiritual stations of the Saints (Awliya) as described by the Great Sheikh. We begin with the "Fadil" (The Virtuous), who transcends the station of mere justice to seek the "Ease of Generosity" (Rahat al-Nada) from the Divine Presence. We then uncover the reality of the "Sayyid" (The Master) who is the "Adib" (The Courteous One) of his time—the Perfect Man who accepts every Divine manifestation and destiny exactly from its source of flow, adhering to the wisdom of the moment.
Furthermore, we analyze the station of the "Mahir" (The Skilled One) who, having mastered spiritual discipline (Riyadah), calls out with the power of spears and flames. The video provides a critical explanation of the twin concepts of "Tahalli" (Adornment with Divine Attributes) and "Takhalli" (Emptying of the Self). We discuss the "Mutahall," who balances divine attributes with physical mortality, and the "Mutakhall," who seeks intimacy with the Divine Reality cloaked in the human form. Finally, we examine the "Mustayqiz" (The Awakened One), whom Divine agitation (Inzi'aj) and spiritual cause ('Illa) have roused from the bed of heedlessness. This exposition is based on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ادیب_زمانہ #ریاضت #تخلی_و_تحلی #انزعاج #بیدار_مغز #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #اسلامی_روحانیت #معرفت_نفس #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #RafarifAlUla #Sufism #IslamicMysticism #SpiritualDiscipline #Riyadah #Adib #TahalliAndTakhalli #SufiPoetry #AbrarAhmedShahi #DivineAttributes #SpiritualAwakening #IbnSawdakin #EsotericIslam
Keywords (Urdu & English):

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 17 تا 22 (فاضل سے مستیقظ تک)، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1. فاضل (صاحبِ فضل): وَمِنْ فَاضِلٍ وَالفَضْلُ حَقُّ وُجُودِهِ … وَلَكِنّ مَا يَرْجُوهُ فِي رَاحَةِ النَّدَى
2. سید (ادیبِ زمانہ): وَمِنْ سَيِّدٍ أَمْسَى أَدِيبَ زَمَانِهِ … يُقَابِل مَنْ يَلْقَاهُ مِنْ حَيْثُ مَا جَرَى
3. ماہر (ریاضت والا): وَمِنْ مَاهِرٍ حَازَ الرِّيَاضَةَ وَاعْتَلَا … فَصَارَ يُنَادِي بِالأَسِنَّةِ وَاللُّهَابِ
4. متحل (صفات سے آراستہ): وَمِنْ مُتَحَلٍ بِالصَّفَاتِ التِيْ حَدَا … أَجْسَادِهَا حَادِي المَنِيَّةِ للبَلَا
5. متخل (خالی ہونے والا): وَمِنْ مُتَخَلٍ طَالِبِ الأُنْسِ بِالَّذِي … تَأَزَّرَ بِالِجسْمِ التُّرَابِي وَارْتَدَى
6. مستیقظ (بیدار ہونے والا): وَمُسْتَيْقَظٍ بِالانْزِعَاجٍ لِعِلَّةٍ … أَصَابَتْهُ مَطْـُروحًا عَلَى فُرُشٍ الْعَمَى

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور معرفت سے لبریز نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے ان چھ اشعار کی گہرائی میں اتریں گے جو اولیا اللہ کے مختلف طبقات اور ان کے احوال بیان کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم سب سے پہلے اس "فاضل" کا ذکر کریں گے جو عدل کے مقام سے گزر کر "راحتِ ندیٰ" یعنی اللہ کے خالص جود و کرم کی پناہ مانگتا ہے۔ اس کے بعد ہم "سید" اور "ادیبِ زمانہ" کی معرفت حاصل کریں گے، یہ وہ کامل انسان ہے جو ہر تجلی اور ہر ملنے والے کا استقبال وہیں سے کرتا ہے جہاں سے وہ جاری ہوا ہے، اور وقت کے حکم کے مطابق چلتا ہے۔ ہم شیخ کے اس کلام کی روشنی میں "ماہر" کی ریاضت اور اس کے جلال کا بھی تذکرہ کریں گے جو باطل کے خلاف نیزوں اور شعلوں کی طرح پکارتا ہے۔
ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم سلوک کی دو اہم ترین اصطلاحات "تحلی" (صفات سے آراستہ ہونا) اور "تخلی" (غیر سے خالی ہونا) پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح "متحل" ولی اپنی صفاتِ الہیہ کے باوجود اپنے جسمانی انجام سے غافل نہیں ہوتا، اور کس طرح "متخل" ولی اس ذات سے انس چاہتا ہے جس نے خاکی جسم کا لباس اوڑھ رکھا ہے۔ آخر میں ہم اس "مستیقظ" (بیدار ہونے والے) کی حالت بیان کریں گے جسے غفلت کے بستر پر "انزعاج" (بے چینی) اور "علت" نے آ لیا اور وہ حقیقت کی طرف بیدار ہو گیا۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور شیخ کی دیگر کتب کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک اصل حقائق پہنچ سکیں۔
English Description:
In this video, we delve deep into the profound verses 17-22 from the chapter "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We explore the distinct spiritual stations of the Saints (Awliya) as described by the Great Sheikh. We begin with the "Fadil" (The Virtuous), who transcends the station of mere justice to seek the "Ease of Generosity" (Rahat al-Nada) from the Divine Presence. We then uncover the reality of the "Sayyid" (The Master) who is the "Adib" (The Courteous One) of his time—the Perfect Man who accepts every Divine manifestation and destiny exactly from its source of flow, adhering to the wisdom of the moment.
Furthermore, we analyze the station of the "Mahir" (The Skilled One) who, having mastered spiritual discipline (Riyadah), calls out with the power of spears and flames. The video provides a critical explanation of the twin concepts of "Tahalli" (Adornment with Divine Attributes) and "Takhalli" (Emptying of the Self). We discuss the "Mutahall," who balances divine attributes with physical mortality, and the "Mutakhall," who seeks intimacy with the Divine Reality cloaked in the human form. Finally, we examine the "Mustayqiz" (The Awakened One), whom Divine agitation (Inzi'aj) and spiritual cause ('Illa) have roused from the bed of heedlessness. This exposition is based on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ادیب_زمانہ #ریاضت #تخلی_و_تحلی #انزعاج #بیدار_مغز #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #اسلامی_روحانیت #معرفت_نفس #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #RafarifAlUla #Sufism #IslamicMysticism #SpiritualDiscipline #Riyadah #Adib #TahalliAndTakhalli #SufiPoetry #AbrarAhmedShahi #DivineAttributes #SpiritualAwakening #IbnSawdakin #EsotericIslam
Keywords (Urdu & English):

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS43NERCMDIzQzFBMERCMEE3

Ep- 37 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے اشعار نمبر 17 تا 22 | Ibn al-Arabi Baithak | 10 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 13, 2026 1:18 pm

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 10 سے 16، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
10. واقف (مخلوق کے لیے کھڑا): وَمِنْ وَاقِفٍ لِلْخَلْقِ عِنْدَ مَقَامِهِ ... وَرُتْبَتُهُ فِي الغَيْبِ مَرْتَبَةُ الأَسَى
11. ظاہر (نمایاں/صاحبِ قدرت): وَمِنْ ظَاهِرٍ وَسْطَ المكان مُبَرَّزٍ ... لَهُ مُـْكنَةٌ تَسْمُو عَلَى كُلِّ مُسْـتَمَى
12. شاطح (دعوے دار): وِمِنْ شَاطِحٍ لَــمْ يَلْتَفِتْ لِـَحقِيْقَةٍ ... قَدْ أنْزَلَهُ دَعْوَاهُ مَنْزِلَةُ الهَبَا
13. نیرات (دلوں میں طلوع ہونے والی): وَمِنْ نَيِّرَاتٍ فِي القُلُوبِ طَوَالِعٍ ... تَدُلُّ عَلَى المَعْنَى، وَمَنْ يَتَّصِلْ يَرَى
14. عاشق: وَمِنْ عَاشِقٍ سِرَّ الذِّهَابِ مُتَيِّــم ... قَدْ أَنْحَلَهُ الشَّوقُ الُمبَرَّحُ وَالَجَوى
15. صاحبِ انفاس: وَصَاحِبُ أَنْفَاسٍ تَرَاهُ مُسَلَّطاً ... عَلَى نَارِ أَشْوَاقٍ بِهَا قَلبُهُ اكْتَوَى
16. کاتمِ سِر (راز چھپانے والا): وَمِنْ كَاتمٍ لِلسِّر يُظْهِــرُ ضِدَّهُ ... عَلَيْهِ لِطُلَّابِ الَمشَــاهِدِ بِالتَّقَى--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور علمی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے آخری حصے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان سات اشعار (شعر نمبر دس تا سولہ) کا احاطہ کریں گے جن میں شیخ نے عالم بالا کے مشاہدات اور اولیا اللہ کے مختلف طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ "واقف" سے کون مراد ہے جو اگرچہ غیب میں بلند ترین مرتبے پر فائز ہے مگر اس نے خود کو مخلوق کی رہنمائی کے لیے روک رکھا ہے۔ پھر ہم اس "ظاہر" کا ذکر کریں گے جو مکان کے وسط میں ہے اور اسے ایسی قدرت حاصل ہے جو تمام نامزد مقامات سے بلند ہے۔ شیخ نے یہاں "شاطح" کے خطرناک مقام کی بھی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح ایک ولی وجد میں آ کر دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ دعویٰ اسے حقیقت سے دور کر کے "ہبا" یعنی بے وزن ذرات کی طرح گرا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ ہم "نیرات" یعنی ان قلبی انوار کا ذکر کریں گے جو سالک کو ذاتِ حق کے معنی تک پہنچاتے ہیں۔ ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم "عاشق" کے اس خاص گروہ پر بات کریں گے جو "سرِ ذہاب" یعنی کوچ کر جانے کے راز کا امین ہے اور عشق کی آگ نے اسے پگھلا دیا ہے۔ پھر ہم "صاحبِ انفاس" کی معرفت حاصل کریں گے جو شوق کی آگ پر مسلط ہوتا ہے اور آخر میں ہم اولیا کے اس بلند ترین طبقے یعنی "ملامتیہ" کا ذکر کریں گے جو "کاتمِ سر" ہیں، جو اپنے راز کو چھپاتے ہیں اور ظاہر میں اپنی ولایت کی ضد پیش کرتے ہیں تاکہ کچے مریدین اور طلبگاروں کے ایمان کی حفاظت ہو سکے۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور قدیم قلمی نسخوں کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک شیخ کا اصل پیغام پہنچ سکے۔
English Description:
In this video, we continue our profound journey through the "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) chapter of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We will explore verses 10 through 16, which categorize distinct spiritual stations and types of friends of God (Awliya). We begin with the "Waqif" (The Standing One), a high-ranking spiritual figure who, despite his immense status in the Unseen, dedicates himself to the guidance of creation. We then discuss the "Zahir" (The Manifest One) positioned at the center of spiritual authority, possessing power that transcends all designated ranks. A critical analysis is provided regarding the "Shatih" (The Ecstatic Utterance Maker), warning how unchecked spiritual claims can reduce a seeker’s station to mere scattered dust (Haba), devoid of weight in the Divine presence.
Furthermore, we delve into the concept of "Nayyirat" (Radiant Lights) rising in the hearts, guiding the seeker to the Ultimate Meaning. We unpack the mystery of the "Ashiq" (Lover) who possesses the "Secret of Departure" (Sirr al-Dhahab), physically present but spiritually annihilated in the Divine. The video also covers the "Sahib al-Anfas" (Master of Breaths), who controls the intense fire of longing rather than being consumed by it. Finally, we conclude with the "Katim al-Sir" (Concealer of Secrets), referencing the Malamatiyya path—those who hide their saintly reality behind a veil of ordinariness to protect aspiring seekers from the overwhelming intensity of Divine Truth. This exposition relies on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ملامتیہ #سالک_و_مجذوب #شطحات #عاشق_الہی #معرفت #روحانیت #اسلامی_تصوف #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #فنا_و_بقا #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #KitabAlIsra #RafarifAlUla #SufiPoetry #IslamicMysticism #Malamatiyya #DivineLove #SufiPath #SpiritualStation #EsotericIslam #AbrarAhmedShahi #Shatih #FanaAndBaqa #SufiWisdom

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے اشعار نمبر 10 سے 16، مستند عربی متن کے مطابق ترتیب وار درج ذیل ہیں:
10. واقف (مخلوق کے لیے کھڑا): وَمِنْ وَاقِفٍ لِلْخَلْقِ عِنْدَ مَقَامِهِ … وَرُتْبَتُهُ فِي الغَيْبِ مَرْتَبَةُ الأَسَى
11. ظاہر (نمایاں/صاحبِ قدرت): وَمِنْ ظَاهِرٍ وَسْطَ المكان مُبَرَّزٍ … لَهُ مُـْكنَةٌ تَسْمُو عَلَى كُلِّ مُسْـتَمَى
12. شاطح (دعوے دار): وِمِنْ شَاطِحٍ لَــمْ يَلْتَفِتْ لِـَحقِيْقَةٍ … قَدْ أنْزَلَهُ دَعْوَاهُ مَنْزِلَةُ الهَبَا
13. نیرات (دلوں میں طلوع ہونے والی): وَمِنْ نَيِّرَاتٍ فِي القُلُوبِ طَوَالِعٍ … تَدُلُّ عَلَى المَعْنَى، وَمَنْ يَتَّصِلْ يَرَى
14. عاشق: وَمِنْ عَاشِقٍ سِرَّ الذِّهَابِ مُتَيِّــم … قَدْ أَنْحَلَهُ الشَّوقُ الُمبَرَّحُ وَالَجَوى
15. صاحبِ انفاس: وَصَاحِبُ أَنْفَاسٍ تَرَاهُ مُسَلَّطاً … عَلَى نَارِ أَشْوَاقٍ بِهَا قَلبُهُ اكْتَوَى
16. کاتمِ سِر (راز چھپانے والا): وَمِنْ كَاتمٍ لِلسِّر يُظْهِــرُ ضِدَّهُ … عَلَيْهِ لِطُلَّابِ الَمشَــاهِدِ بِالتَّقَى

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور علمی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے باب "الرفارف العلی" کے آخری حصے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان سات اشعار (شعر نمبر دس تا سولہ) کا احاطہ کریں گے جن میں شیخ نے عالم بالا کے مشاہدات اور اولیا اللہ کے مختلف طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ "واقف" سے کون مراد ہے جو اگرچہ غیب میں بلند ترین مرتبے پر فائز ہے مگر اس نے خود کو مخلوق کی رہنمائی کے لیے روک رکھا ہے۔ پھر ہم اس "ظاہر" کا ذکر کریں گے جو مکان کے وسط میں ہے اور اسے ایسی قدرت حاصل ہے جو تمام نامزد مقامات سے بلند ہے۔ شیخ نے یہاں "شاطح" کے خطرناک مقام کی بھی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح ایک ولی وجد میں آ کر دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ دعویٰ اسے حقیقت سے دور کر کے "ہبا" یعنی بے وزن ذرات کی طرح گرا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ ہم "نیرات" یعنی ان قلبی انوار کا ذکر کریں گے جو سالک کو ذاتِ حق کے معنی تک پہنچاتے ہیں۔ ویڈیو کے اگلے حصے میں ہم "عاشق" کے اس خاص گروہ پر بات کریں گے جو "سرِ ذہاب" یعنی کوچ کر جانے کے راز کا امین ہے اور عشق کی آگ نے اسے پگھلا دیا ہے۔ پھر ہم "صاحبِ انفاس" کی معرفت حاصل کریں گے جو شوق کی آگ پر مسلط ہوتا ہے اور آخر میں ہم اولیا کے اس بلند ترین طبقے یعنی "ملامتیہ" کا ذکر کریں گے جو "کاتمِ سر" ہیں، جو اپنے راز کو چھپاتے ہیں اور ظاہر میں اپنی ولایت کی ضد پیش کرتے ہیں تاکہ کچے مریدین اور طلبگاروں کے ایمان کی حفاظت ہو سکے۔ یہ تمام گفتگو شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی مستند شرح اور قدیم قلمی نسخوں کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ آپ تک شیخ کا اصل پیغام پہنچ سکے۔
English Description:
In this video, we continue our profound journey through the "Rafarif al-Ula" (The Celestial Carpets) chapter of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra. We will explore verses 10 through 16, which categorize distinct spiritual stations and types of friends of God (Awliya). We begin with the "Waqif" (The Standing One), a high-ranking spiritual figure who, despite his immense status in the Unseen, dedicates himself to the guidance of creation. We then discuss the "Zahir" (The Manifest One) positioned at the center of spiritual authority, possessing power that transcends all designated ranks. A critical analysis is provided regarding the "Shatih" (The Ecstatic Utterance Maker), warning how unchecked spiritual claims can reduce a seeker’s station to mere scattered dust (Haba), devoid of weight in the Divine presence.
Furthermore, we delve into the concept of "Nayyirat" (Radiant Lights) rising in the hearts, guiding the seeker to the Ultimate Meaning. We unpack the mystery of the "Ashiq" (Lover) who possesses the "Secret of Departure" (Sirr al-Dhahab), physically present but spiritually annihilated in the Divine. The video also covers the "Sahib al-Anfas" (Master of Breaths), who controls the intense fire of longing rather than being consumed by it. Finally, we conclude with the "Katim al-Sir" (Concealer of Secrets), referencing the Malamatiyya path—those who hide their saintly reality behind a veil of ordinariness to protect aspiring seekers from the overwhelming intensity of Divine Truth. This exposition relies on the authoritative commentary of Ismail ibn Sawdakin and verified manuscripts.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #رفارف_العلی #تصوف #صوفیانه_کلام #ملامتیہ #سالک_و_مجذوب #شطحات #عاشق_الہی #معرفت #روحانیت #اسلامی_تصوف #شرح_ابن_عربی #ابرار_احمد_شاہی #فنا_و_بقا #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #KitabAlIsra #RafarifAlUla #SufiPoetry #IslamicMysticism #Malamatiyya #DivineLove #SufiPath #SpiritualStation #EsotericIslam #AbrarAhmedShahi #Shatih #FanaAndBaqa #SufiWisdom

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS41NTZEOThBNThFOUVGQkVB

Ep- 36 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے 16 اشعار | Ibn al-Arabi Baithak | 3 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 9, 2026 12:00 am

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے پہلے 9 اشعار، عربی متن اور مخطوطات کی ترتیب کے مطابق درج ذیل ہیں:
1. مشاہدہِ عجائب: فَعَايَنْتُ مِنْ عِلمِ الغُيُوبِ عَجَائِبًا ... تُصَانُ عَنْ التِّذْكَارِ فِي رَأي مَنْ وَعَى
2. صادحات (گانے والیاں): فَمِنْ صَادِحَاتٍ فَوْقَ غُصْنِ أَرَاكَةٍ ... يَهِجْنَ بِلَابِيْلَ الشَّجَى إِذَا خَلَا
3. نیراتِ سائلات (آسمانی روشنیاں): وَمِنْ نَـيِّرَاتٍ سَــائِلَاتٍ ذَوَاتَها ... أَفِيْضُوا عَلَيْنَا النُّورَ مِنْ قُرصَة الَمهَا
4. نقرِ اوتار (سازوں کے نغمے): وَمِنْ نَقْرِ أَوْتَارٍ بِأَيْدِي كَوَاعِبٍ ... عِذَاب الثَنَايَا طَاهِراتٍ مِنْ الـَخنَا
5. نافثاتِ سحر (پھونکنے والیاں): وَمِنْ نَافِثَاتِ السِّحْرِ فِي غَسَقِ الدُّجَى ... عَسَى وَلَعَلَّ الدَّهْرَ يَسْطُو بِـهِم غَدَا
6. اقوامِ کرام (برقع پوش): وَأَبْصَرتُ أَقَوَامًا كِـَرامًا تَبَرْقَعُوا ... وَلَوْ حَسَرَوا أضْحَتْ على أرضهَا السَّـمَا
7. سالک: فَمِنْ سَالِكٍ نَـهْجَ الطَّـرِيقِ مُسَافِرٍ ... إِلَى سَفْرٍ يَسْمُو وَفِي الغَيْبِ مَا سَـمَا
8. واصل: وَمِنْ وَاصِلٍ سِرَّ الحَقِيْقَةِ صَامِتٍ ... وَلَو نَطَقَ المِسْكِيْنُ عَجَّزَهُ الوَرَى
9. قائم بالحـال: وَمِنْ قَائمٍ بِالحَالِ فِي بِيْتِ مَقْدِسٍ ... فَلَا نَفْسُه تَظْمَا وَلَا سِرُّهُ ارْتَوَى--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (ابرار احمد شاہی کے انداز میں):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس نشست میں ہم شیخ اکبر محی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی شاہکار تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے انتہائی لطیف اور اسرار سے بھرپور باب "الرفارف العلی" (بلند و بالا تخت) کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان پہلے نو اشعار کا احاطہ کریں گے جو شیخ نے عالمِ بالا کے مشاہدات کے دوران قلمبند فرمائے۔ یاد رہے کہ شیخ اکبر کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں آپ نے کشف اور شہود کی حالت میں دیکھا اور پھر الفاظ کا جامہ پہنایا۔ یہاں ذکر کردہ اصطلاحات جیسے "صادحات" (گانے والیاں)، "نیرات" (روشنیاں) اور "کواعب" (دوشیزائیں) کو ان کے ظاہری معنوں میں ہرگز نہ لیا جائے، بلکہ شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی تصریحات کے مطابق یہ عالمِ ارواح، ملائکہ اور اسمائے الہیہ کے لطیف اشارے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "سالک" اور "واصل" کے فرق کو واضح کیا ہے کہ سالک ابھی سفر میں ہے جبکہ واصل حقیقت کے راز کو پا کر خاموش ہو چکا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے وہ راز افشا کر دیا تو عقلیں دنگ رہ جائیں گی۔ اسی طرح ہم ان مقدس نفوس کا ذکر کریں گے جنہوں نے جلالِ الہی کی وجہ سے نقاب اوڑھ رکھے ہیں کہ اگر وہ چہرہ بے نقاب کریں تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یہ ویڈیو ان طالبینِ حق کے لیے ایک نادر تحفہ ہے جو شیخ اکبر کے علوم کو تحقیق شدہ عربی متن اور مستند شروحات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔
English Description:
In this video, we delve into the profound spiritual insights of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi (may Allah sanctify his secret) from his seminal work, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the first nine verses of the chapter "al-Rafārif al-‘Ulā" (The Celestial Carpets/Veils). These verses represent the spiritual visions witnessed by Ibn Arabi during his ascension through the higher realms. It is crucial to understand that the imagery used here—such as "Singing birds" (Sadihat), "Radiant Lights" (Nayyirat), and "Maidens" (Kawa'ib)—are metaphorical expressions for Divine Names, angelic spirits, and metaphysical realities, as clarified by the classic commentaries like that of Ismail ibn Sawdakin.
We will unpack the distinction Ibn Arabi draws between the "Traveler" (Salik), who is still ascending through knowledge, and the "Arriver" (Wasil), who has attained the secret of Truth and chosen silence, knowing that speaking of the Ultimate Reality would incapacitate the minds of creation. We also discuss the "Veiled Ones," whose spiritual intensity is so immense that their unveiling would collapse the cosmic order. This video presents a critical analysis based on verified manuscripts, offering a rare glimpse into the esoteric cosmology of Ibn Arabi for students of Sufism and Islamic spirituality.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #تصوف #صوفیانه_کلام #روحانی_معراج #عرفان #اسلامی_تصوف #سالک_و_واصل #اسرار_الہیہ #شرح_ابن_عربی #رفارف_العلی #ابرار_احمد_شاہی #ابن_سودکین #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #IslamicSpirituality #KitabAlIsra #SufiPoetry #SpiritualAscension #Mysticism #SufiTeachings #IbnArabiBooks #AbrarAhmedShahi #EsotericKnowledge #DivineLove #SufiWisdom #SpiritualJourney

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے باب "الرفارف العُلیٰ" کے پہلے 9 اشعار، عربی متن اور مخطوطات کی ترتیب کے مطابق درج ذیل ہیں:
1. مشاہدہِ عجائب: فَعَايَنْتُ مِنْ عِلمِ الغُيُوبِ عَجَائِبًا … تُصَانُ عَنْ التِّذْكَارِ فِي رَأي مَنْ وَعَى
2. صادحات (گانے والیاں): فَمِنْ صَادِحَاتٍ فَوْقَ غُصْنِ أَرَاكَةٍ … يَهِجْنَ بِلَابِيْلَ الشَّجَى إِذَا خَلَا
3. نیراتِ سائلات (آسمانی روشنیاں): وَمِنْ نَـيِّرَاتٍ سَــائِلَاتٍ ذَوَاتَها … أَفِيْضُوا عَلَيْنَا النُّورَ مِنْ قُرصَة الَمهَا
4. نقرِ اوتار (سازوں کے نغمے): وَمِنْ نَقْرِ أَوْتَارٍ بِأَيْدِي كَوَاعِبٍ … عِذَاب الثَنَايَا طَاهِراتٍ مِنْ الـَخنَا
5. نافثاتِ سحر (پھونکنے والیاں): وَمِنْ نَافِثَاتِ السِّحْرِ فِي غَسَقِ الدُّجَى … عَسَى وَلَعَلَّ الدَّهْرَ يَسْطُو بِـهِم غَدَا
6. اقوامِ کرام (برقع پوش): وَأَبْصَرتُ أَقَوَامًا كِـَرامًا تَبَرْقَعُوا … وَلَوْ حَسَرَوا أضْحَتْ على أرضهَا السَّـمَا
7. سالک: فَمِنْ سَالِكٍ نَـهْجَ الطَّـرِيقِ مُسَافِرٍ … إِلَى سَفْرٍ يَسْمُو وَفِي الغَيْبِ مَا سَـمَا
8. واصل: وَمِنْ وَاصِلٍ سِرَّ الحَقِيْقَةِ صَامِتٍ … وَلَو نَطَقَ المِسْكِيْنُ عَجَّزَهُ الوَرَى
9. قائم بالحـال: وَمِنْ قَائمٍ بِالحَالِ فِي بِيْتِ مَقْدِسٍ … فَلَا نَفْسُه تَظْمَا وَلَا سِرُّهُ ارْتَوَى

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (ابرار احمد شاہی کے انداز میں):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس نشست میں ہم شیخ اکبر محی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی شاہکار تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے انتہائی لطیف اور اسرار سے بھرپور باب "الرفارف العلی" (بلند و بالا تخت) کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہم ان پہلے نو اشعار کا احاطہ کریں گے جو شیخ نے عالمِ بالا کے مشاہدات کے دوران قلمبند فرمائے۔ یاد رہے کہ شیخ اکبر کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں آپ نے کشف اور شہود کی حالت میں دیکھا اور پھر الفاظ کا جامہ پہنایا۔ یہاں ذکر کردہ اصطلاحات جیسے "صادحات" (گانے والیاں)، "نیرات" (روشنیاں) اور "کواعب" (دوشیزائیں) کو ان کے ظاہری معنوں میں ہرگز نہ لیا جائے، بلکہ شیخ کے شارح اسماعیل ابن سودکین کی تصریحات کے مطابق یہ عالمِ ارواح، ملائکہ اور اسمائے الہیہ کے لطیف اشارے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "سالک" اور "واصل" کے فرق کو واضح کیا ہے کہ سالک ابھی سفر میں ہے جبکہ واصل حقیقت کے راز کو پا کر خاموش ہو چکا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے وہ راز افشا کر دیا تو عقلیں دنگ رہ جائیں گی۔ اسی طرح ہم ان مقدس نفوس کا ذکر کریں گے جنہوں نے جلالِ الہی کی وجہ سے نقاب اوڑھ رکھے ہیں کہ اگر وہ چہرہ بے نقاب کریں تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یہ ویڈیو ان طالبینِ حق کے لیے ایک نادر تحفہ ہے جو شیخ اکبر کے علوم کو تحقیق شدہ عربی متن اور مستند شروحات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔
English Description:
In this video, we delve into the profound spiritual insights of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi (may Allah sanctify his secret) from his seminal work, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the first nine verses of the chapter "al-Rafārif al-‘Ulā" (The Celestial Carpets/Veils). These verses represent the spiritual visions witnessed by Ibn Arabi during his ascension through the higher realms. It is crucial to understand that the imagery used here—such as "Singing birds" (Sadihat), "Radiant Lights" (Nayyirat), and "Maidens" (Kawa'ib)—are metaphorical expressions for Divine Names, angelic spirits, and metaphysical realities, as clarified by the classic commentaries like that of Ismail ibn Sawdakin.
We will unpack the distinction Ibn Arabi draws between the "Traveler" (Salik), who is still ascending through knowledge, and the "Arriver" (Wasil), who has attained the secret of Truth and chosen silence, knowing that speaking of the Ultimate Reality would incapacitate the minds of creation. We also discuss the "Veiled Ones," whose spiritual intensity is so immense that their unveiling would collapse the cosmic order. This video presents a critical analysis based on verified manuscripts, offering a rare glimpse into the esoteric cosmology of Ibn Arabi for students of Sufism and Islamic spirituality.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #تصوف #صوفیانه_کلام #روحانی_معراج #عرفان #اسلامی_تصوف #سالک_و_واصل #اسرار_الہیہ #شرح_ابن_عربی #رفارف_العلی #ابرار_احمد_شاہی #ابن_سودکین #IbnArabi #SheikhAlAkbar #Sufism #IslamicSpirituality #KitabAlIsra #SufiPoetry #SpiritualAscension #Mysticism #SufiTeachings #IbnArabiBooks #AbrarAhmedShahi #EsotericKnowledge #DivineLove #SufiWisdom #SpiritualJourney

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS42Qzk5MkEzQjVFQjYwRDA4

Ep- 35 | Kitab al-Isra | رفارف العلي کے 8 اشعار | Ibn al-Arabi Baithak | 3 Jan 2026

Ibn al-Arabi Foundation January 8, 2026 12:16 pm

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے "ساتویں آسمان (سماء الغایة)" کے باب میں موجود مطلوبہ اشعار ترتیب وار درج ذیل ہیں:
بَلَغَ الغَــايَـةَ قَلْبُ فَتًى ... عَلِيَّةً فِي سَــابِقِ القِدَمِ
قَدْ أبَحْنَا لَثْـمُهَا فَـمَهُ ... لِيَـمينِ اللهِ مُسْتَلِـمِ
سَعْدَ نَفْسِي إِنَّها سَعِدَتْ ... بِسلوكِ الواضِحِ الأَمَــمِ
لَمْ يَنَلْهُ غَيْرُهَا عَاشِقًا ... مِثْلَهَا في سَالِفِ الأُمَــمِ
يَا رِجَالًا طَلَبُوا غَيْرَنَا ... أينَ جُودُ البَحْرِ مِنْ كَرَمي
ارْجِعُوا واسْتَلِمُوا كَفَّ مَنْ ... إِنْ يَهَبْ لَمْ يَخْشَ مِنْ عَدَمِ
كُلُّ طَـْرفٍ فِي العُلَى سَانِح ... نَحْوَنَا، وَجْدَاننَا يَرْتَمِي
كُلُّ سِرٍّ خَافِضٍ رَافِعٍ ... لِوُجُودِي رَغْبَةً يَنْتَـمِي
مُنْذُ حَلَّ الشَّمْسُ فِي حَمَلي ... أمِنُوا تَحِلَّةَ القَسَمِ
لَمْ نَزِلْ وَلَا نَزَالُ غَـدًا ... فِي نَعِيـٍـم غيرِ مُنْصَرِمِ
وَشُمُوسُ الوَصْلِ طَالِعَةٌ ... وَخُسُوفُ الهَجْرِ فِي العَدَمِ
اُنْظُروا قَوْلِي لَكُمْ فَلَقَدْ ... عَيْنُ كُلِّ النَّاسِ عَنْهُ عَـمي
تَجِدُوهُ وَاضِحًا حَسَنًا ... مُنْبِئًا عَنْ رُتْبَةِ الكَرَمِ
يَا إِلَهَ الخَلْقِ يَا أَمْلَي ... وَسَمِيري في دُجَى الظُلَمِ
جُدّ عَلَي صَبٍّ حَلِيْفِ ضَنًي ... يَا كَثـِيرَ الفَضْـلِ وَالنِّعَـــمِ--------------------------------------------------------------------------------
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور نورانی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے ساتویں آسمان یعنی "سماء الغایہ" کے حقائق کا مطالعہ کریں گے۔ اس ویڈیو میں ہم ان ابیات کی تشریح کریں گے جو شیخ نے مقامِ ابراہیم اور بیت المعمور کے مشاہدے کے بعد قلمبند فرمائے۔ شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ "ایک جواں مرد کا دل اس بلند ترین غایہ کو پہنچ گیا جو سابق قدم (ازل) میں طے شدہ تھی"۔ یہ اشعار درحقیقت اس روحانی معراج کی انتہا کا بیان ہیں جہاں سالک "یمین اللہ" (اللہ کا دایاں ہاتھ) کا استلام کرتا ہے، جو کہ حجر اسود کی روحانی حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے۔
یہاں شیخ نے اس "فتویٰ" کا ذکر کیا ہے جو کامل یقین اور معرفت کے بعد دل کو عطا ہوتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "شمس" کے "حمل" میں حلول کرنے کی اصطلاح استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب معرفت کا سورج سالک کے برج میں طلوع ہوتا ہے تو تمام قسمیں پوری ہو جاتی ہیں اور وہ دائمی نعیم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ہے جو شیخ اکبر کے کلام میں موجود "شموس الوصل" اور "خسوف الہجر" کے معانی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ الفاظ محض شاعری نہیں بلکہ حقائقِ توحید کے وہ موتی ہیں جو شیخ نے عالمِ قدس سے چن کر اہل ذوق کی نذر کیے ہیں۔ ہم ان اشعار کے ذریعے "قطب شریعت" کے مقام اور اس کے فیوضات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہمارے دل بھی اس "جود البحر" سے سیراب ہو سکیں جس کا ذکر شیخ نے فرمایا ہے۔
English Description:
In this video, we delve into one of the most profound sections of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the verses from the chapter of the "Seventh Heaven" (Sama al-Ghayah), also known as the Heaven of the Ultimate Goal. These verses, beginning with "The heart of a spiritual youth reached the ultimate goal," describe the climax of the spiritual journey where the seeker arrives at the station of Abraham (peace be upon him) and the Inhabited House (Bayt al-Ma'mur). Ibn Arabi uses the metaphor of "kissing the Right Hand of God" (Yamin Allah), alluding to the esoteric reality of the Black Stone and the renewal of the primordial covenant.
We will unpack the symbolism of the "Sun entering the sign of Aries (Hamal)," which Ibn Arabi uses to signify a station of spiritual maturity, authority, and the fulfillment of Divine oaths. The Sheikh describes a state of perpetual bliss and connection ("Wusul") where the eclipse of separation ("Hajar") no longer exists. This video provides a detailed commentary on these verses, explaining how the "Pole of the Sacred Law" (Qutb al-Shariah) invites the seekers to leave the limited generosity of others and turn towards the boundless Ocean of Divine Generosity. Join us as we decode the terminology of the Sheikh to understand the stations of the "Fata" (Spiritual Knight) and the secrets of pre-eternal destiny mentioned in these sublime lines.--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #قطب_شریعت #ساتواں_آسمان #روحانی_معراج #صوفیانه_کلام #تصوف #اسلامی_روحانیت #معرفت_الہی #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #الفتوحات_المکیہ #یمین_اللہ #مقام_ابراہیم #سماء_الغایہ #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #Sufism #IslamicSpirituality #SpiritualAscension #SufiPoetry #DivineLove #SevenHeavens #MaqamIbrahim #AbrarAhmedShahi #EsotericIslam #SufiWisdom #Mysticism #TheMeccanRevelations #IbnSawdakin #Qutb #DivineCovenant

شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتاب 'الإسراء إلى المقام الأسرى' کے "ساتویں آسمان (سماء الغایة)" کے باب میں موجود مطلوبہ اشعار ترتیب وار درج ذیل ہیں:
بَلَغَ الغَــايَـةَ قَلْبُ فَتًى … عَلِيَّةً فِي سَــابِقِ القِدَمِ
قَدْ أبَحْنَا لَثْـمُهَا فَـمَهُ … لِيَـمينِ اللهِ مُسْتَلِـمِ
سَعْدَ نَفْسِي إِنَّها سَعِدَتْ … بِسلوكِ الواضِحِ الأَمَــمِ
لَمْ يَنَلْهُ غَيْرُهَا عَاشِقًا … مِثْلَهَا في سَالِفِ الأُمَــمِ
يَا رِجَالًا طَلَبُوا غَيْرَنَا … أينَ جُودُ البَحْرِ مِنْ كَرَمي
ارْجِعُوا واسْتَلِمُوا كَفَّ مَنْ … إِنْ يَهَبْ لَمْ يَخْشَ مِنْ عَدَمِ
كُلُّ طَـْرفٍ فِي العُلَى سَانِح … نَحْوَنَا، وَجْدَاننَا يَرْتَمِي
كُلُّ سِرٍّ خَافِضٍ رَافِعٍ … لِوُجُودِي رَغْبَةً يَنْتَـمِي
مُنْذُ حَلَّ الشَّمْسُ فِي حَمَلي … أمِنُوا تَحِلَّةَ القَسَمِ
لَمْ نَزِلْ وَلَا نَزَالُ غَـدًا … فِي نَعِيـٍـم غيرِ مُنْصَرِمِ
وَشُمُوسُ الوَصْلِ طَالِعَةٌ … وَخُسُوفُ الهَجْرِ فِي العَدَمِ
اُنْظُروا قَوْلِي لَكُمْ فَلَقَدْ … عَيْنُ كُلِّ النَّاسِ عَنْهُ عَـمي
تَجِدُوهُ وَاضِحًا حَسَنًا … مُنْبِئًا عَنْ رُتْبَةِ الكَرَمِ
يَا إِلَهَ الخَلْقِ يَا أَمْلَي … وَسَمِيري في دُجَى الظُلَمِ
جُدّ عَلَي صَبٍّ حَلِيْفِ ضَنًي … يَا كَثـِيرَ الفَضْـلِ وَالنِّعَـــمِ

——————————————————————————–
YouTube Video Description
اردو ڈسکرپشن (بزبانِ ابرار احمد شاہی):
حمد و ثنا کے بعد، آج کی اس انتہائی اہم اور نورانی نشست میں ہم شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی قدس اللہ سرہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاسرا الی المقام الاسری" کے ساتویں آسمان یعنی "سماء الغایہ" کے حقائق کا مطالعہ کریں گے۔ اس ویڈیو میں ہم ان ابیات کی تشریح کریں گے جو شیخ نے مقامِ ابراہیم اور بیت المعمور کے مشاہدے کے بعد قلمبند فرمائے۔ شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ "ایک جواں مرد کا دل اس بلند ترین غایہ کو پہنچ گیا جو سابق قدم (ازل) میں طے شدہ تھی"۔ یہ اشعار درحقیقت اس روحانی معراج کی انتہا کا بیان ہیں جہاں سالک "یمین اللہ" (اللہ کا دایاں ہاتھ) کا استلام کرتا ہے، جو کہ حجر اسود کی روحانی حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے۔
یہاں شیخ نے اس "فتویٰ" کا ذکر کیا ہے جو کامل یقین اور معرفت کے بعد دل کو عطا ہوتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح شیخ نے "شمس" کے "حمل" میں حلول کرنے کی اصطلاح استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب معرفت کا سورج سالک کے برج میں طلوع ہوتا ہے تو تمام قسمیں پوری ہو جاتی ہیں اور وہ دائمی نعیم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ویڈیو ان احباب کے لیے ہے جو شیخ اکبر کے کلام میں موجود "شموس الوصل" اور "خسوف الہجر" کے معانی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ الفاظ محض شاعری نہیں بلکہ حقائقِ توحید کے وہ موتی ہیں جو شیخ نے عالمِ قدس سے چن کر اہل ذوق کی نذر کیے ہیں۔ ہم ان اشعار کے ذریعے "قطب شریعت" کے مقام اور اس کے فیوضات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہمارے دل بھی اس "جود البحر" سے سیراب ہو سکیں جس کا ذکر شیخ نے فرمایا ہے۔
English Description:
In this video, we delve into one of the most profound sections of Sheikh al-Akbar Muhyiddin Ibn Arabi's masterpiece, Kitab al-Isra ila al-Maqam al-Asra (The Book of Spiritual Ascension). We specifically explore the verses from the chapter of the "Seventh Heaven" (Sama al-Ghayah), also known as the Heaven of the Ultimate Goal. These verses, beginning with "The heart of a spiritual youth reached the ultimate goal," describe the climax of the spiritual journey where the seeker arrives at the station of Abraham (peace be upon him) and the Inhabited House (Bayt al-Ma'mur). Ibn Arabi uses the metaphor of "kissing the Right Hand of God" (Yamin Allah), alluding to the esoteric reality of the Black Stone and the renewal of the primordial covenant.
We will unpack the symbolism of the "Sun entering the sign of Aries (Hamal)," which Ibn Arabi uses to signify a station of spiritual maturity, authority, and the fulfillment of Divine oaths. The Sheikh describes a state of perpetual bliss and connection ("Wusul") where the eclipse of separation ("Hajar") no longer exists. This video provides a detailed commentary on these verses, explaining how the "Pole of the Sacred Law" (Qutb al-Shariah) invites the seekers to leave the limited generosity of others and turn towards the boundless Ocean of Divine Generosity. Join us as we decode the terminology of the Sheikh to understand the stations of the "Fata" (Spiritual Knight) and the secrets of pre-eternal destiny mentioned in these sublime lines.

——————————————————————————–
Hashtags (Urdu & English):
#ابن_عربی #شیخ_اکبر #کتاب_الاسراء #قطب_شریعت #ساتواں_آسمان #روحانی_معراج #صوفیانه_کلام #تصوف #اسلامی_روحانیت #معرفت_الہی #ابرار_احمد_شاہی #شرح_ابن_عربی #الفتوحات_المکیہ #یمین_اللہ #مقام_ابراہیم #سماء_الغایہ #IbnArabi #SheikhAlAkbar #KitabAlIsra #Sufism #IslamicSpirituality #SpiritualAscension #SufiPoetry #DivineLove #SevenHeavens #MaqamIbrahim #AbrarAhmedShahi #EsotericIslam #SufiWisdom #Mysticism #TheMeccanRevelations #IbnSawdakin #Qutb #DivineCovenant

YouTube Video UExwVkE0Nms0V2M5UG95LXdvU195Z3NXMVc1ZE43OWk5aS4zMEQ1MEIyRTFGNzhDQzFB

Ep- 34 | Kitab al-Isra | قطب شریعت نے کیا حقائق بتائے | Ibn al-Arabi Baithak | 27 Dec 2025

Ibn al-Arabi Foundation January 7, 2026 11:52 am