JoomlaLock.com All4Share.net

Author: Shaykh al-Akbar Muhyiddin Muhammad Ibn al-Arabi

Editor: Abrar Ahmed Shahi

Translator: Abrar Ahmed Shahi

2nd Edition January 2017

Pages: 248

ISBN: 9789699305115

Price Rs 650/- Int'l US $ 25.

Hardbound

Dimensions: 240 × 165 mm

in stock

Read online and Purchase

This book describes the meaning of spiritual journeying, the different kinds of traveller, as well as various types of journey. The sixteen journeys or voyages described range from ones accomplished by the Divine (for example, in descending into creation) to those undertaken by various prophets.

The only journey Ibn ‘Arabi unqualifiedly approved of is one where the traveller does not take a single step by himself but is ‘carried’ by the Real, whether spiritually, physically or both together. It is a journey of paradox: a journey in which the traveller stays perfectly still.


Ibn al-Arabi's Says in Kitab al-Isfar:

There are three kinds of voyage, not four. The Real, may He be magnified and glorified, has affirmed them. They are: the voyage from Him, the voyage to Him, and the voyage in Him. The voyage in Him is the voyage of wandering and bewilderment. Whoever voyages from Him, his gain is what he finds—that is his gain—while whoever voyages in Him, gains nothing but H/himself. The first two voyages have a goal where [travellers] arrive and dismount from their journey, while the voyage of wandering has no goal.


This first Urdu translation includes the Critically edited Arabic text, with translator’s introduction and extensive notes.

Manuscript sources for this Edition:

Critical Arabic edition made by Yusuf Aga 4859 and supported by 8 other finest copies. This edition is as authentic and pure as intended by the author. We are pround to present the Most Authentic Critical Edition of Kitāb al-Isfār. 

This edition includes full Arabic text, complete Urdu translation, Arabic and Urdu notes, Takhrīj of Quranic Ayas and Ahadith and a preface on the concept of spiritual voyaging.

 روحانی اسفار اور ان کے ثمرات

سفر کی خصوصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نتیجے یا مقصد کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہی اس سفر کا حاصل یا ثمر کہلاتا ہے۔ جس قسم کا سفر کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کا نتیجہ ہوتا ہے چنانچہ ہر سفر لازماً اپنے اندر موجود ثمرات کو آشکار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور انہی ثمرات کے حصول کے لیے وہ سفر کیا جاتا ہے۔ عربی لفظ سفر سے مشتق ایک لفظ اِسفار بھی ہے جس کا مطلب کسی چیز کو واضح کرنا یا روشن کرنا ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو پیش نظر رکھنے ہوئے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ میں فرماتے ہیں کہ “سفر کو سفر اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مَردوں کے اخلاق عیاں کرتا ہے، مطلب یہ کہ یہ ہر انسان کے اُن اچھے اور بُرے اخلاق کو ظاہر کرتا ہے جن کا وہ شخص حامل ہوتا ہے۔”

کتاب الاسفار ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تمام موجودات بشمول الوہیت – کچھ وجوہ سے – ایک ایسے عالمی سفر کا حصہ ہیں جس کی دنیا اور آخرت میں کوئی انتہا نہیں، انسان ہمیشہ سے ایک مسافر ہے جسے ایک حالت پر قرار نہیں کیونکہ وجود کی بنیاد ہی حرکت پر ہے اور اگر یہ وجود سکون کرے گا تو اپنی اصل یعنی کہ عدم کر طرف لوٹ جائے گا۔ اگر دیکھا جائے تو یہاں اصلاً کوئی سکون نہیں ہر چیز حرکت میں ہے اور حرکت ہی اس چیز کو اس کی حالت پر باقی رکھے  ہوئے ہے چنانچہ ہم جب تک سفر میں رہیں گے یہ عارضی وجود ہمارے ساتھ رہے گا اور جیسے ہی ہمارا سفر ختم ہو گا ہمارا گھر اور ٹھکانۂ اصلی یعنی کہ عدم ہمیں اپنے گھیرے میں لے لے گا۔ اگر ہمیں اتنی بات سمجھ آ جائے کہ ہمارا وجود اس حرکت سے قائم ہے اور سکون میں اس کی ہلاکت ہے تو ہمیں یقین ہو گا کہ ہم سفر میں ہیں۔

رسالہ اسفار کے عربی متن سے ہمارا پہلا تعارف حیدر آباد دکن سے سن 1938ءمیں  شائع شدہ کتاب رسائل ابن عربی کے توسط سے ہوا۔ یہ اس کتاب کی پہلی اشاعت تھی جس کی عربی عبارت کتب خانہ آصفیہ (نمبر 376 میں موجود مخطوطات جو کہ سن 997 ہجری میں نقل کیے گئے تھے) کے ایک مخطوط کو بنیاد بنا کر اخذ کی گئی تھی چنانچہ جدید علمی تحقیق کے تقاضوں کے برخلاف یہ اشاعت اپنے اندر بہت سی غلطیاں سموئے ہوئے تھی۔

اس کے بعد اس کتاب کے تحقیق شدہ عربی متن پر کام مشہور فرانسیسی سکالر ڈنیس گرل نے شروع کیا۔ آپ نے اپنی تحقیق کے لیے اس کتاب کے 6 قدیمی مخطوطات سے مدد لی ۔ آپ لکھتے ہیں: “یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ کتب خانہ یوسف آغا میں موجود قلمی نسخے (نمبر 4859) تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی۔ عثمان یحییٰ کے بقول یہی اس رسالے کا اصل قلمی نسخہ ہے اور اس پر ایک سماع بھی موجود ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ سامع کون ہے۔” چنانچہ سن 1994ء میں ڈینس گرل نے اس کتاب کا پہلا تحقیق شدہ عربی متن بمع فرانسیسی ترجمے کے پیرس سے شائع کیا۔ یوں 1994ء سے لے کر اب تک یہ اشاعت ہی اس کی حتمی اشاعت تصور ہوتی رہی اور اسی  پر بھروسہ کیا جاتا رہا۔

اس اشاعت کے 15 سال بعد سن 2009ء میں انگلینڈ میں شیخ اکبر کے کتب پر کام کرنے والے ادارے عنقاء پبلشنگز میں جناب اسٹیفن ہرٹنسٹائن نے جب یہ تہیہ کیا کہ انہیں کتاب اسفار کو تحقیق شدہ عربی عبارت اور انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع کرنا ہے تو ان کے پیش نظر کتب خانہ یوسف آغا (نمبر4859) کا وہی قلمی نسخہ تھا جسے شیخ اکبر نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اس قدیمی اصل نسخے کے مہیا ہو جانے کے بعد اب سب سے بڑا کام ڈینس گرل کی تحقیق شدہ تمام عبارت کا اس سے موازنہ کرنا اور نص کو اس نسخے کے مطابق ڈھالنا تھا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا بلکہ ایک ایک لفظ کو درست تشکیل دینے کا ایک صبر آزما عمل تھا۔ یہ انہی دنوں کی بات تھی جب ہم اپنی کتاب 101- احادیث قدسی کی اشاعت اور اس کے بعد کتاب الاسفار پر کام کرنے کا سوچ رہے تھے۔ جب مجھے اسٹیفن ہرٹنسٹائن کے اس عزم کا علم ہوا تو میں نے ان سے رابطہ کیا اور ابن عربی فاؤنڈیشن سے رسالہ اسفار کے عربی اور اردو متن شائع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوراً سے ہمیں بھی اس پراجکٹ میں شریک کر لیا اور طے یہ پایا کہ اس آخری موازنے کے صبر آزما عمل کو ہم یہاں ابن عربی فاؤنڈیشن میں ہی مکمل کریں گے۔ بس پھر کیا تھا فوراً سے آپ نے عربی متن اور نسخہ یوسف آغا بجھوا دیا اور تحقیق کا یہ عمل شروع ہوا۔

 کتاب الاسفار کا دوسرا ایڈیشن

بحمد اللہ اب ہم اس کتاب کا دوسرا تحقیقی اور جدید ایڈیشن قارئین کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔ اسے کسی صورت بھی پہلے ایڈیشن پر نظر ثانی نہ سمجھا جائے بلکہ نئے مصادر، نئے ترجمے اور اضافہ شدہ حواشی کے ساتھ یہ مکمل نئی کتاب ہے۔ ابن العربی فاؤنڈیشن سے یہ کتاب سن 2010ء میں پہلی بار شائع ہوئی، اور پھر سن 2012ء میں دوبارہ اسی ایڈیشن کو طبع کروایا گیا۔ سن 2016ء میں ہم نے جب دوبارہ اس کو طبع کروانے کا سوچا تو ہمیں یہ بتایا گیا کہ اس ایڈیشن میں ابھی اغلاط باقی ہیں چنانچہ اصلاح کی گنجائش بھی باقی ہے۔ ہم نے ارادہ کیا کہ چلو عربی متن کو دوبارہ سے دیکھ لیتے ہیں اور اگر ممکن ہوا تو ترجمے کی اغلاط بھی ٹھیک کر دیں گے، لیکن جب ہم نے نظر ثانی کا یہ عمل شروع کیا تو ہمیں پہلے صفحے سے ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ کتاب ایک نئی تحقیق کی متقاضی ہے، چونکہ پچھلی اشاعت میں ہمارا تمام تر بھروسا ڈینی گرل کے متن پر تھا اور ہم نے صرف دو یا تین مخطوطات سے عبارت کا موازنہ کیا تھا لہذا متن میں جا بجا مسائل نظر آنے لگے، خاص طور پر حاشیے میں جہاں دیگر مخطوطات کے متغیر الفاظ درج ہوتے ہیں۔ لہذا ہم نے اس کتاب کو از سر نو تحقیق کرنے کی ٹھانی اور اس سلسلے میں جناب ڈینی گرل کی تحقیق کو یک سر نظر انداز کر کے ان آٹھ مخطوطات پر مکمل بھروسا کیا ہے جو اُس وقت ہماری نظر میں اِس رسالے کے دستیاب بہترین نسخے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ان میں تین یا چار وہی نسخے ہیں جو ڈینی گرل نے اپنی تحقیق میں شامل کیے تھے لیکن ہم نے براہ راست متن انہی نسخوں سے اخذ کیا اور پرانی تحقیق کی طرف نظر نہیں کی۔ ان تمام مخطوطات کی تفصیل آپ مخطوطات کے عنوان تلے دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں پر میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس نئی تحقیق کے بعد ہم نے عربی متن میں 30 سے 35 الفاظ کو تبدیل کیا ہے۔ ان سے متن اور معانی میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے۔ پھر ہم نے دوبارہ اِس کتاب کا مکمل اردو ترجمہ کیا، پچھلی اشاعت کی خامیوں کو دور کیا اور حواشی کا اضافہ کیا۔


آج یہ کتاب محبان علوم شیخ اکبر کے سامنے نہایت ہی تحقیق اور تدقیق کے ساتھ پہلی بار عربی متن اور اردو ترجمے کے ساتھ پیش کی جارہی ہے۔ آج ہمیں نہایت خوشی ہو رہی ہے کہ اس پاک ذات نے ہمیں اپنے کہے پر عمل کرنے کی توفیق دی اور محض اس کی توفیق اور عطا سے ہی ہم اس منزل کو پانے میں کامیاب ہوئے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہماری نیتیں ٹھیک رکھنے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچائے: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ﴾(آل عمران: 8) یااللہ تو جانتا ہے کہ ہمارے اس عمل میں بنیادی مقصد تیری رضا کا حصول اور لوگوں تک حق بات کا پہنچا دینا ہے اس لیے ہمارے اس حقیر سے عمل کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخش دے اور ہمیں آیندہ بھی ان اعمال صالحہ کی توفیق دے جو ہمارے لیے تیری طرف سے اس عمل کی قبولیت کی ایک نشانی ہوں۔

ابرار احمد شاہی

Who are we

Spiritual guiding force behind all of the Foundation's activities. He is a practicing Shaykh with thousands of murids and Astana at Rawalpindi. 

Syed Rafaqat Hussain Shah
Murshid Kareem

Editor and Translator of more than 25 Books and Rasail's of Shaykh al-Akbar Ibn al-Arabi. Working full time for this cause. 

Abrar Ahmed Shahi
Head of Ibn al-Arabi Foundation

Contributing part time on Foundation's activities, Proof reader and Urdu language editor of all the published works. 

Hamesh Gul Malik
Secretary General.