JoomlaLock.com All4Share.net
Fusus al-Hikam

Author: Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi

Editor: Abd al-Aziz Sultan al-Mansub

Translated by: Abrar Ahmed Shahi

Price Rs 1099/- Int'l US $ 25. (Each volume)

Pages: 448

ISBN: 9789699305085

Dimensions: 255 × 165 mm

Publishing Date: December 2015

in stock

Read online and purchase

Muhyiddin Ibn 'Arabi considered the Futuhat al Makkiyya his major opus, to be the most important of his more than 350 books. ... More details coming ...

الفتوحات المکیہ

الفتوحات المکیہ کا شمار شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الطائی الحاتمی کی اہم ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں کہ یہ تصوف کا جامع انسائیکلوپیڈیا ہے اور صوفی معارف کا مصدر اور اساس ہے۔ اس کتاب کے بارے میں شیخ اکبر لکھتے ہیں:

نے اِس کتاب کا نام : "رسالة الفتوحات المكية في معرفة الأسرار المالكية والملكية" ركھا ہے۔ اور اس میں زیادہ تر وہ باتیں ذکر کی ہیں جو اللہ تعالی نے مجھ پر اپنے مکرم گھر کے طواف کے دوران یا حرم شریف میں مراقبے کی حالت میں کھولیں، میں نے اِسے شرف والے ابواب بنایا اور اِس میں لطیف معانی ذکر کیے۔” (السفر –1) فتوحات مکیہ کے باب نمبر 366 میں لکھتے ہیں: میں اپنی تصانیف اور مجالس میں جو کچھ بھی ذکر کرتا ہوں تو وہ حاضرت قرآن اور اس کے خزانوں میں سے ہے۔ مجھے اس میں فہم کی کنجیاں اور اس کی امداد دی گئی ہے۔ باب نمب73 میں فرماتے ہیں: جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دے دیا گیا ... اللہ کی قسم میں نے اس میں ہر حرف املائے الہی اور القائے ربانی یا وجودی شعور میں روحانی القا سے لکھار 3 ہے، یہ اصل بات ہے۔ اس کتاب میں ہمارا منہج اقتصار اور حتی الامکان اختصار ہے؛ کیونکہ یہ بڑی کتاب ہے اور لازم ہے کہ اس میں طریق الی اللہ کی امہات اور اصول ہوں، جہاں تک ابناء اور فروع کا تعلق ہے تو وہ تعداد سے باہر ہیں۔ (السفر- 9) اگر ہم سلوک کے مراتب اور اسرار بیان کرنے لگ جائیں تو وہ اس کتاب میں ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹا دیں گے جو کہ اقتصاد اور اس ضروری علم پر اقتصار ہے جس کی اہل طریقت کو ضرورت ہے ... اس کتاب کی طوالت و وسعت ، فصول اور ابواب کی کثرت کے باوجود ہم نے اس میں طریقت کی اپنی خواطر میں سے کسی ایک خاطر کو بھی پوری طرح سے بیان نہیں کیا، کہاں طریقت (کا مکمل بیان)!۔ (السفر – 16)

شیخ اکبر نے سن 599 ھ میں شہر مکہ میں اس کی ابتدا کی، اور ماہ صفر 629ھ میں دمشق میں اسے مکمل کیا، اِس کی تکمیل پر لکھتے ہیں: “یہ میری لکھائی میں اصل ہے، کیونکہ میں اپنی تصانیف کا مسودہ بالکل نہیں بناتا۔” لیکن پھر سن 632ھ میں شیخ کو یہ خیال آیا کہ اس موسوعے کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ لکھا جائے، اور پہلا نسخہ مسودے کی حیثیت اختیار کر جائے؛ چنانچہ آپ نے اس پہلے نسخے میں اضافہ بھی کیا اور کمی بھی۔ یہ عمل 4 سال کا عرصہ میں سن 636ھ میں مکمل ہوا۔

غور کرنے پر پتا چلتا ہے کہ شیخ اکبر نے صرف اسے دوبارہ لکھنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر جزو کے اختتام پر نسخہ اولی سے اِس کا موازنہ کیا اور اپنے متعدد ساتھیوں کے سامنے سماع کی مجالس میں اس کی مناسب درستگی بھی کی۔ اسی طرح ہر موازنے کے اختتام پر سماع ثبت کی اور حاضرین کے نام بمع تاریخ رقم کیے۔

فتوحات کا یہ دوسرا نسخہ شیخ اکبر کے ہاتھ سے لکھے 10544 صفحات پر مشتمل ہے، آپ نے انہیں 37 جلدوں میں تقسیم کیا ہے، یہ 560ابواب پر مشتمل ہیں۔ آخری جلد کے آخری صفحے پر آپ کے ہاتھ سے لکھی یہ عبارت درج ہے:

“الحمد للہ اس باب کے اختتام پر حتی الامکان اختصار اور اجمال سے مصنف کے ہاتھوں کتاب کا اختتام ہوا، یہ میرے ہاتھ سے لکھا اِس کتاب کا دوسرا نسخہ ہے۔ اس باب کا اختتام جو کہ اس کتاب کا اختتام ہے بروز منگل 24 ربیع الاول سن 636ھ کو ہوا، اِسے اِس کے مصنف محمد بن علی بن محمد بن العربی الطائی الحاتمی – اللہ اسے توفیق دے – نے اپنے ہاتھ سے تحریر کیا۔ یہ نسخہ 37 جلدوں پر مشتمل ہے، اور اس میں پہلے نسخے پر چند اضافات ہیں ، میں اِسے اپنے بیٹے محمد الکبیر کے نام منسوب کرتا ہوں، جس کی ماں فاطمہ بنت یونس بن یوسف امیر الحرمین ہیں، اللہ تعالی اُسے، اُس کی نسل کو اور اس کے بعد مشرق و مغرب بحر و بر کے تمام مسلمانوں کو اس کی توفیق دے۔”

شیخ اکبر نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل یہ نسخہ اپنے وفا شعار بیٹے صدر الدین محمد بن اسحاق القونوی کو ہدیہ کر دیا، اور یہ پہلی جلد کے پہلے صفحے سے واضح ہے، اس میں شیخ اکبر کے ہاتھ سے لکھی یہ عبارت ہے: “اِس جلد کے مالک محمد بن اسحاق القونوی کی روایت” جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ اب تک صدر الدین القونوی کی نگرانی میں رہی، اسی عبارت کے ساتھ شیخ صدر الدین القونوی اس متنقلی کی تاریخ کے بارے میں یوں لکھتے ہیں: یہ جلد اور ساری کتاب اس کے مصنف، شیخ الاسلام، اللہ آپ کی تائید کرے، سے انعام کی صورت میں آپ کے خادم اور ربیب نظر محمد بن اسحاق کو سن 637 ھ کے چند مہینوں میں منتقل ہوئی، اللہ ان کی اور ان کے والدین کی مغفرت فرمائے، آپ کو ہر اُس علم سے نفع پہنچائے جو شیخ نے اُن کے قریب کیا۔

اس کے بعد آپ کے شاگرد صدر الدین القونوی نے اس نسخے کی حفاظت کی، اور ان کے باقی رہ جانے والے اجزا کا موازنہ کیا جن کا موازنہ شیخ نہ کر سکے تھے، اور یہ سب حواشی میں ثبت کیا۔ اپنی وفات سے قبل شیخ صدر الدین قونوی نے اپنی قبر کے ساتھ بنائی گئی لائبریری میں اسے وقف کر دیا اور اس وقف میں یہ شرط رکھی کہ مسلمان اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے کسی صورت اس لائبریری سے باہر نہ لے جایا جائے؛ نہ تو رہن کی صورت، اور نہ کسی اور صورت۔ اُس وقت سے لے کر اب تک یہ نسخہ قونیہ کے نام سے مشہور ہے۔

حکمت الہیہ کی مشیت یہی تھی کہ اس طرح سے یہ نسخہ محفوظ رہے، چنانچہ آج 800 سال گزر جانے کے باوجود یہ نسخہ نہ صرف موجود ہے بلکہ ہم نے اللہ تعالی کے احسان اور توفیق سے اِس کتاب کے متن کی تحقیق کے لیے اِسی نسخے کو بنیاد بنایا ہے۔

اشاعتی معیار

ہم آپ حضرات کو یہ یقین دہانی بھی کروانا چاہتے ہیں کہ آپ کے ہاتھوں میں موجود یہ ایڈیشن اس وقت روئے زمین پر اِس کتاب کا بہترین؛ قدیمی مخطوطات سے اخذ شدہ مستند ترین اور مصدّقہ ایڈیشن ہے۔ ہم نے عبارت کو اشاعت کے بنیادی اصولوں سے مزین کر کے شائع کیا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

  1. عربی عبارت میں موجود تمام قرآنی آیات کی تخریج کی گئی ہے۔
  2. کتاب کا مکمل عربی متن دیا گیا ہے تاکہ وہ حضرات جو اردو نہیں جانتے اور عربی متن تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اُن کے لیے آسانی ہو۔
  3. کتاب کا ترجمہ نہایت سلیس رکھا گیا ہے اور ہر مشکل عربی لفظ کے مقابل اردو لفظ لانے کی کوشش کی گئی ہے، الاّ یہ کہ وہ شیخ اکبر کی اصطلاح ہو۔ اردو ترجمے میں مفاہیم کی روانی اور سلاست پر توجہ دی گئی ہے لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر مکمل ترجمہ کماحقہ کرنا ممکن نہیں۔ عربی متن ساتھ پیش کرنے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ دلیل پکڑنے کی غرض سے اصل عربی سے رجوع کیا جائے اور ترجمے کو صرف فہم کا ایک ذریعہ سمجھا جائے، بلکہ جو حضرات عربی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں انہیں عربی متن ہی پڑھنا چاہیے۔ 
  4. علوم شیخ اکبر کے ترجمے کا حق ادا کرنا تو کسی کے بس کی بات نہیں، ہم نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ ترجمہ علوم شیخ اکبر کی عمومی فہم کے مطابق سلیس اور آسان ہو لیکن اگر کسی مقام پر ہم عربی متن اور ترجمے کو شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی مراد کے مطابق پیش نہیں کر سکے تو ہم آپ سے معافی کے خواستگار ہیں۔
  5. کتاب کو بڑے سائز پر بہترین صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ اشاعتِ کتاب کے سلسلے میں بین الاقوامی معیار کو سامنے رکھا گیا ہے۔ آج ہمیں نہایت خوشی ہو رہی ہے کہ اس پاک ذات نے ہمیں اپنے اس عزم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دی۔ بیشک محض اس کی توفیق اور عطا، اپنے ظاہری اور باطنی شیوخ کی نظر التفات ہی وہ اسباب ہیں کہ ہم اس منزل کو پانے میں کامیاب ہوئے۔

Who are we

Spiritual guiding force behind all of the Foundation's activities. He is a practicing Shaykh with thousands of murids and Astana at Rawalpindi. 

Syed Rafaqat Hussain Shah
Murshid Kareem

Editor and Translator of more than 25 Books and Rasail's of Shaykh al-Akbar Ibn al-Arabi. Working full time for this cause. 

Abrar Ahmed Shahi
Head of Ibn al-Arabi Foundation

Contributing part time on Foundation's activities, Proof reader and Urdu language editor of all the published works. 

Hamesh Gul Malik
Secretary General.