JoomlaLock.com All4Share.net

سلام کے آداب

جسے تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اسے سلام میں پہل کر۔ اگر تو کسی کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ تجھے سلام کرتا ہے تو اسے پہلے سلام کرنے دے اور پھر اس کا جواب دے؛ ایسے صورت میں تجھے سلام کے جواب دینے کا اجر ملے گا؛ کیونکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے، اور سلام کرنا سنت ہے، اور اللہ کو اپنے قرب کے لیے وہی چیز سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس نے اپنی مخلوق پر فرض کی۔ اگر تجھے کسی شخص کے بارے میں یہ پتا ہو اسے تیرا سلام کرنا پسند نہیں اور یہ بھی اس حد تک کہ اگر تو اسے سلام کرے تو وہ جواب دینا گوارا نہیں کرتا تو اسے سلام کرنے میں پہل نہ کر؛ یہ تیرا خود پر اسے ترجیح دینا اور اس پر شفقت کرنے سے ہے؛ کیونکہ ایسی صورت میں تو اس کے اس کے گناہ کے درمیان آ جائے گا؛ گناہ اس طرح جب وہ سلام کا جواب نہ دے کیونکہ ایسی صورت میں وہ اللہ کا فرض کیا حکم نہیں مان رہا ، ایمان میں مخلوق پر شفقت کرنا بھی ہے لہذا اس نیت سے اس کو سلام میں پہل نہ کر۔ اگر تو یہ جانتا ہو کہ وہ سلام کا جواب دے گا تو پھر چاہے اسے برا ہی کیوں نہ لگے اسے سلام کر بلکہ اونچی آواز میں کر؛ کیونکہ اس کے سلام کا جواب دینے میں تو اسے ثواب تک پہنچائے گا اور تیرے اس سلام کرنے سے تیرے بارے میں اس کی ناپسندیدگی میں کمی ہو گی؛ اس کے ایمان اور اس کے نیک نفس کے مطابق، اگر اس کی جبلت میں کچھ نیک کرداری ہوئی۔

فتوحات مکیہ از شیخ اکبر محی الدین ابن العربی

فقیر الی اللہ اور فقیر من اللہ

اللہ کا فقیر اور اللہ کے کرنے سے فقیر؛ ربوبیت اور عبودیت کے شائبے

اللہ کے کرنے سے فقیر بن جیسے کہ تو اس کا فقیر ہے، یہ قول آپ کے اس قول جیسا ہی ہے کہ "میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں" اور اللہ سے فقیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تجھ میں ربوبیت کا شائبہ تک نظر نہیں آنا چاہیے، بلکہ سراسر عبودیت ہی ظاہر ہو، جیسا کہ جناب حق میں عبودیت کا شائبہ نہیں، بلکہ اس ذات کے لیے یہ ناممکنات میں سے ہے؛ وہ تو ربِ محض ہے؛ اسی طرح تو محض بندہ بنا۔ پس اللہ کے ساتھ اپنی اوقات کے مطابق ہو اپنی عین کےمطابق نہیں؛ کیونکہ تیری عین میں ربوبیت کے شائبے ہیں؛ اللہ نے تجھے دعوے سے اپنی صورت پر جو پیدا کیا، جبکہ تیری اوقات یہ نہیں۔ یہی بات مجھے میرے شیخ اور استاد ابو العباس العریبی نے بتائی، تیری اوقات حال سے تصرف کرتی ہے دعوے سے نہیں لہذا تو بھی ویسا ہی ہو جا۔ اور جب کبھی تیرا نفس تجھے کہے کہ "اللہ کی مدد سے سب سے بے پروا ہو جا کہ میں نے تجھے سرداری کا حکم دیا ہے تو اسے کہہ: میں تو اللہ کا فقیر ہوں اور اس چیز کا بھی جس کا محتاج مجھے اللہ بنا دے؛ اللہ تعالی نے تو مجھے اس نمک تک کا محتاج بنایا ہے جو میں اپنے آٹے میں ڈالتا ہوں۔

فتوحات مکیہ از شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی

2

اہل اللہ سے تمسخر

اہل اللہ کے ساتھ تمسخر اور ٹھٹھے بازی نہ کر کہ یہ دین اللہ کے ساتھ تمسخر کے مترادف ہے، انہیں تضحیک کا نشانہ مت بنا کیونکہ اس کا وبال قیامت والے دن تجھ پر ہی لوٹے گا؛ اللہ تجھ سے تمسخر کرے گا اور تجھے تضحیک کا نشانہ بنائے گا؛ وہ اس طرح کہ تجھے دنیا میں کیے گئے تیرے کرتوت دکھلائے گا کہ تو جب کسی صاحب ایمان سے ملتا تھا تو تمسخر اور تضحیک کے لہجے میں کہتا تھا: "میں تیرے ساتھ ہوں" قیامت والے دن اللہ تعالی تجھے اس کا پورا پورا بدلہ دے گا جس قدر تو نے مومنین کی مخالفت کی ہو گی یا پھر جس قدر قوی ان اللہ والوں کا ایمان ہو گا۔ ہم نے مدرسین فقہا میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو کہ ان اللہ والوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو صرف اللہ ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں، جن کے دلوں پر جب اللہ کی طرف سے کچھ وارد ہوتا ہے تو اس کا اظہار کرتے ہیں۔

فتوحات مکیہ از شیخ اکبر محی الدین ابن العربی

صنف نازک کو نصیحت

اے دوست! اگر تیری بیوی، بہن، بیٹی یا کوئی بھی عورت جو تیرے زیر تصرف ہو تو اسے نصیحت کر اور اس سے بے اعتنائی نہ کر، یا اگر تو یہ دیکھے کہ کوئی عورت تیری بات سنے گی تو چاہے وہ کوئی بھی ہو اسے نصیحت کر۔ اسے کہہ کہ جب وہ باہر نکلے تو بہت تیز خوشبو نہ لگائے؛ کیونکہ رسول اللہ سے ثابت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "جو عورت خوشبو لگا کراس نیت سے لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے کہ انہیں یہ خوشبو پہنچے تو وہ زانیہ ہے۔" اس بارے میں پابندی لگاتے ہوئے فرمایا: جو عورت خوشبو لگائے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں نہ آئے۔ وہ اس لیے کہ رات کی چھائی تاریکی میں گناہ آسانی سے ہوتا ہے، ہو سکتا ہے کہ مسجد جاتے ہوئے اس کی یہ خوشبو کسی شخص کے دل میں بیٹھ جائے اور اللہ کا خوف نہ رہے تو وہ کیا کر بیٹھے، اسی لیے رسول اللہ نے ایسی عورت کو عشاء میں شامل ہونے سے منع کر دیا۔ لہذا عورت کو کبھی بھی خوشبو لگا کر باہر نہیں نکلنا چاہے، نہ رات میں نہ دن میں۔

فتوحات مكيه از ابن العربي

درست تلاوت قرآن

قرآن کریم کی صحیح تلاوت جس کا ثمر رب تعالی کی عطا ہے۔

لیکن یہاں ایک شرط ہے اور عالم جب اس طرح سے تلاوت کرتا ہے تو اس شرط سے غافل نہیں رہتا؛ وہ اسے حکایت کی طرح تلاوت نہیں کرتا؛ کیونکہ جو ہم نے کہا اور جو ہم چاہتے ہیں ایسی تلاوت اس میں فائدہ مند نہیں، اور اللہ تعالی نے اسے قرآن کی تلاوت یا اس کا ذکر کرنے کا حکم صرف اسی لیے دیا کہ وہ اسے اپنا درست ذکر کرنے کا طریقہ سکھائے، اور یہ بندہ طلب، اضطرار، افتقار اوردائرہ شرعی کے تحت جو چیز بھی اپنے رب سے مانگ رہا ہو اور حضوری سے مانگے؛ حق تعالی بھی ایسے شخص کی دعا کو سنتا ہے جسے مانگنے کا سلیقہ آتا ہو۔ اگر وہ قرآن کو ایک حکایت کے طور پر تلاوت کرے گا تو دراصل اس نے نہیں مانگا بلکہ ایک سوال کو دہرا دیا ؛ ایسی صورت میں حق تعالی بھی اسے کچھ عطا نہیں کرتا۔ اور یہ کہنا بے جا نہیں کہ زیادہ تر تلاوت کرنے والے حکایت ہی پڑھ رہے ہوتے ہیں؛ کیونکہ ان کے نزدیک اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی زبانوں سے قرآن پڑھتے تو ہیں لیکن یہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا، ان کے دل تلاوت اور اس کی سماعت کے وقت غافل ہوتے ہیں۔

فتوحات مکیہ از شیخ اکبر محی الدین ابن العربی

Who are we

Spiritual force behind the Foundation's activities here in Pakistan. Our Shaykh in Qadari Tariqa

Syed Rafaqat Hussain Shah
Shaykh of Qadari Razzaqi tariqa
Ahmed

Shaykh of Tariqa al Akbariiya, our mentor in correct understanding of the Shaykh's teachings.

Shaykh Ahmed Muhammad Ali
Shaykh of Akbariyya Tariqa

Editor, Translator and Ambassador of Shaykh al Akbar. Working full time in the foundation

Abrar Ahmed Shahi
Head at Ibn al Arabi Foundation Pakistan

Proof reader and Urdu language editor, contributing part time on Foundation's activities

Hamesh Gul Malik
Secretary General.