JoomlaLock.com All4Share.net

حضرت ابوہریرة کو وصیتیں

۱- اے ابو ہریرة! جب تو وضو کر تو پڑھ: بسم اللہ و الحمد للہ، تیرے محافظ فرشتے اس وقت تک تیرے لیے (نیکیاں) لکھتے رہیں گے جب تک کہ تو وضو سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔

2- اے ابو ہریرة!جب تو کھانا کھانے لگے تو پڑھ: بسم اللہ و الحمد للہ، بیشک تیرے محافظ فرشتے اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ تو یہ کھانا اپنے جسم سے باہر نہ نکال دے اور وہ تیرے لیے نیکیاں لکھتے جائیں گے۔

3- اے ابو ہریرة! جب تو اپنی بیوی یا اپنی لونڈی سے ہمبستری کا ارادہ کر تو پڑھ: بسم اللہ والحمد للہ، تیرے محافظ فرشتے اس وقت تک تیرے لیے نیکیاں لکھتے رہیں گے جب تک کہ تو جنابت سے غسل نہیں کر لیتا، اور جب تو جنابت سے غسل کرے گا تو تیرے گناہ بھی دھو دیئے جائیں گے۔

4- اے ابو ہریرة! اگر اس باری سے تیرا بچہ پیدا ہواتو تیرے لیے اس بیٹے اور اس کے بعد آنے والوں کی سانسوں کے مطابق نیکیاں دی لکھی جائیں گی، حتی کہ کوئی باقی نہ رہ جائے۔

نیکیوں کی بہار، حضرت ابوہریرة سے پیار

اے ابو ہریرة!جب تو سواری پر سوار ہو تو پڑھ: بسم اللہ والحمد للہ،تیرا شمار اس وقت تک عبادت گزاروں میں ہو گا جب تک کہ تو اس سے اتر نہیں جاتا۔

اے ابو ہریرة! جب تو کشتی میں سوا ر ہو تو پڑھ: بسم اللہ والحمد للہ، تیرا شمار اس وقت تک عبادت گزاروں میں ہو گا جب تک کہ تو اس سے اتر نہیں جاتا۔

اے ابو ہریرة! جب تو کپڑا پہن تو پڑھ: بسم اللہ والحمد للہ، اس میں موجود ہر دھاگے کے بدلے تجھے دس نیکیاں دی جائیں گی۔

اقتباس از فتوحات

ایک عالم سے کہا گیا کہ ہمیں کوئی نصیحت کریں؟وہ بولے: ان لوگوں کی مجلس سے اجتناب کرو جو ظاہر داری کی جھوٹی باتیں کرتے ہیں، دھوکے کے میٹھے بول بولتے ہیں جبکہ ان کے دل مکر وفریب، دغا بازی، جھانسا، مکاری، حسد، تکبر، حرص، طمع، بغض، عداوت اور دھوکے سے لبریز ہیں؛ ان کا دین تعصب اور عقیدہ نفاق ہے، ان کے اعمال ریا کاری اور پسند شہوت دنیا ہے،وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسا ہو نہیں سکتا دنیا میں ہمیشہ رہنے کے خواہاں ہیں، وہ کچھ جمع کرتے ہیں جو خرچ نہیں کرتے، ایسے گھر بناتے ہیں جہاں رہتے نہیں، اور ایسی امیدیں لگاتے ہیں جو پوری نہیں ہو سکتیں، حرام کماتے ہیں اور گناہوں میں لگاتے ہیں، اچھے کاموں سے روکتے ہیں اور برے کاموں کو کرتے ہیں۔

گناہوں کا سبب

ایک عارف باللہ سے پوچھا گیا: گناہ کا سبب کیا ہے؟ وہ بولے: اس کا سبب نگاہ ہے، نگاہ سے ہی دل میں خیالات آتے ہیں؛ اگر اللہ کی طرف رجوع کر کے ان خیالات کا تدارک کر لیا جائے تو یہ چلے جاتے ہیں لیکن اگر ان کا تدارک نہ کیا جائے تو یہ وسوسے مل کر ایک ہو جاتے ہیں؛ پھر اس سے شہوت جنم لیتی ہے، اس وقت تک بھی یہ سب باطن میں ہی ہوتا ہے ابھی اعضا پر ان کا اثر ظاہر نہیں ہوا، اگر شہوت کا تدارک کر لیا جائے تو ٹھیک ورنہ اس سے طلب جنم لیتی ہے، اگر طلب کا تدارک بھی کر لیا جائے تو ٹھیک نہیں تو اس سے فعل جنم لیتا ہے۔

حضرت آدم کے کلمات

حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا: یا رسول اللہ! مجھے اللہ تعالی کے اس قول کے بارے میں بتائیے: ﴿پس حضرت آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات حاصل کیے،تو اس ذات نے انہیں معاف کیا﴾ (البقرة: 37) یہ کون سے کلمات تھے؟ نبی کریم نے فرمایا: اللہ تعالی نے حضرت آدم کو ہندوستان میں اور مائی حوا کو جدہ میں اتارا، سانپ کواصفہان اور ابلیس کو (بیسان) میں اتارا ۔ جنت میں مور اور سانپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہ تھی اور وہاں سانپ کے بھی ویسے ہی پاؤں تھے جیسے اونٹ کے پیر ہوتے ہیں۔ لہذا جب ابلیس – اللہ کی اس پر لعنت ہو – اس کے اندر گھسا اور آدم کو دھوکا دیا اور بہکایا تو اللہ تعالی سانپ پر شدید غضب ناک ہوا اور اس کے پاؤں کاٹ کر پھینک دیئے اور فرمایا: میں نے تیرا رزق مٹی یا ریت میں رکھ دیا اور اب تو اپنے پیٹ کے بل ہی چلے گا اور جو تجھ پر رحم کرے گا اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا۔ اور اللہ تعالی نے مور پر اپنے غصے کا اظہار یوں کیا کہ اس کے پاؤں بگاڑ دئیے؛ کیونکہ یہ مور ہی شیطان کو اس درخت تک لے کر گیا تھا۔ آدم سو سال تو اپنی خطا پر شرمسار اشک ندامت بہاتے ہوئے ایک جگہ ہی بیٹھے رہے اور (شرم سے) اپنا سر آسمان کی طرف نہیں اٹھاتے تھے۔

پھر ایک دن اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل کو آپ کی طرف بھیجا ، انہوں نے کہا: السلام علیک یا آدم! اللہ عز وجل تجھ پر سلامتی بھیجتا ہے اور تجھے فرماتا ہے: کیا میں نے تجھے اپنے دونوں ہاتھوں سے نہیں بنایا؟ کیا تجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی؟ کیا میرے فرشتوں نے تجھے سجدہ نہیں کیا؟ کیا میں نے اپنی بندی حوا سے تیری شادی نہیں کروائی؟ پھر یہ رونا کیسا ہے؟ حضرت آدم بولے: اے جبرائیل ! میں کیسے نہ روؤں حالانکہ میں اپنے رب کے قرب سے نکالا گیا ہوں؟ حضرت جبرائیل نے کہا: اے آدم! ان کلمات کو پڑھ لیں، اللہ آپ کی غلطی معاف کر دے گا اور توبہ قبول کرے گا۔ حضرت آدم نے پوچھا : وہ کلمات کیا ہیں؟ فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے محمد اور آل محمد کے حق سے مانگتا ہوں، تو پاک ہے اور سب تعریف تیری ہے، بیشک نے میں نے برا کیا اور خود پرظلم کیا (مجھے بخش دے) کیونکہ صرف تو ہی خطاؤں کو بخشتا ہے، مجھ پر رحم کر تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔ تو پاک ہے اور سب تعریف تجھے سزاوار ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، بیشک میں نے برا کیا اور خود پر ظلم کیا؛ مجھے بخش دے بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ تو پاک ہے اور سب تعریف تیری ہی ہے، میں نے برا کیا او رخود پر ظلم کیا، مجھے معاف کر دے کیونکہ تو بہترین معاف کرنے والا ہے۔" وہ کلمات یہ تھے۔

Who are we

Spiritual force behind the Foundation's activities here in Pakistan. Our Shaykh in Qadari Tariqa

Syed Rafaqat Hussain Shah
Shaykh of Qadari Razzaqi tariqa
Ahmed

Shaykh of Tariqa al Akbariiya, our mentor in correct understanding of the Shaykh's teachings.

Shaykh Ahmed Muhammad Ali
Shaykh of Akbariyya Tariqa

Editor, Translator and Ambassador of Shaykh al Akbar. Working full time in the foundation

Abrar Ahmed Shahi
Head at Ibn al Arabi Foundation Pakistan

Proof reader and Urdu language editor, contributing part time on Foundation's activities

Hamesh Gul Malik
Secretary General.